نیویارک (مشرق نیوز) دنیا بھر میں خسرہ ایک بار پھر تیزی سے پھیل رہا ہے۔ خسرے سے پاک کی حیثیت رکھنے والے ملک امریکہ اور میکسیکو میں بھی 2026 میں وبا پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جس سے عالمی سطح پر تشویش بڑھ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق انسانوں کی اجتماعی مدافعت کمزور ہو چکی ہے جس کے نتیجے میں یہ انتہائی متعدی وائرس دوبارہ سر اٹھا رہا ہے۔
کوویڈ19 کے بعد کئی ممالک میں بچوں کی معمول کی ویکسی نیشن متاثر ہوئی ہے، ہسپتالوں پر دباو اور لاک ڈاون کے باعث لاکھوں بچے ایم ایم آر (خسرہ، ممپس، روبیلا) ویکسین سے محروم رہے ہیں۔ امریکی ریاست ساوتھ کیرولائنا کے سپارٹنبرگ کاونٹی میں 2026 کے آغاز سے اب تک 550 سے زائد خسرہ کے کیس سامنے آ چکے ہیں جس کے باعث سکول بند اور ہسپتالوں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
کینیڈا 2025 میں ہی خسرے سے پاک ہونے کی حیثیت کھو چکا ہے جبکہ پاکستان، بھارت، انڈونیشیا اور یمن میں بھی ہزاروں کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ ماہرین کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ خسرہ صرف بخار اور دانوں تک محدود نہیں۔ یہ بیماری مدافعتی نظام کو شدید نقصان پہنچاتی ہے جس سے بچے کئی سال تک دیگر بیماریوں کا آسان شکار بن سکتے ہیں۔
ابتدا میں نزلہ، کھانسی، ناک بہنا اور آنکھوں کی سوزش ہوتی ہے۔ چند دن بعد منہ میں سفید دھبے اور پھر چہرے سے شروع ہو کر پورے جسم پر دانے نکل آتے ہیں۔ دو خوراکوں پر مشتمل ایم ایم آر ویکسین عمر بھر کا تحفظ فراہم کرتی ہے۔ بیرونِ ملک سفر سے کم از کم دو ہفتے پہلے ویکسین مکمل کروانا ضروری ہے۔ متاثرہ علاقوں سے واپسی کے بعد 21 دن تک علامات پر نظر رکھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خسرے کے خلاف جنگ صرف فرد کی نہیں بلکہ پوری کمیونٹی کی ذمہ داری ہے۔ بروقت ویکسی نیشن ہی اس خطرناک بیماری سے بچاو¿ کا واحد موثر ذریعہ ہے۔
خسرہ عالمی خطرہ بن گیا، دنیا بھر میں ایک بار پھر وبا کیوں پھیل رہی ہے؟



















