تائیوان پر تنازع خطرناک، ضروری ہے شراکت بنیں، چینی صدر کا ٹرمپ کو مشورہ

بیجنگ (مشرق نیوز) امریکی صدر ٹرمپ چین کے تاریخی دورہ میں چینی صدر سے وفود کی سطح پر ملاقات کیلئے پیپلز ہال پہنچے جہاں انکا والہانہ استقبال کیا گیا، گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، چینی اور امریکی صدور کے درمیان گفتگو دو گھنٹے تک جاری رہی۔ امریکی اور چینی صدور کی ملاقات پر پوری دنیا کی نظریں ہیں، اس ملاقات میں ایران تنازع، عالمی تجارتی رکاوٹوں، ٹیرف معاملات سمیت کئی ایسے امور زیر بحث آئیں گے جن کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔

چین آئے امریکی صدر نے بیجنگ میں قدیم عبادت گاہوں کے مجموعے اور ایک اہم سیاحتی مرکز، ٹیمپل آف ہیون کا دورہ کیا، کچھ دیر بعد چینی صدر شی جن پنگ بھی وہاں پہنچے اور دونوں رہنماوں نے تصاویر بنوائیں۔ ایک مرکزی ہال کے سامنے تصویر بنواتے ہوئے ٹرمپ نے شی جن پنگ سے کہا کہ یہ ناقابل یقین حد تک زبردست جگہ ہے، چین بہت خوبصورت ہے۔

قدیم عبادتگاہوں کا یہ وسیع و عریض کمپلیکس وہ مقام ہے جہاں منگ اور چنگ سلطنتوں کے شہنشاہ قربانیاں پیش کرتے اور اچھی فصلوں کیلئے دعا کرتے تھے۔ ٹرمپ کے ہمراہ آنے والے میڈیا کے نمائندوں نے دو مرتبہ سوال کیا کہ کیا دونوں ممالک کے صدور نے تائیوان پر بات کی ہے، مگر ٹرمپ اور شی جواب دیے بغیر ہی مندر کی جانب بڑھ گئے اور جب ایک رپورٹر نے پوچھا کہ مذاکرات کیسے رہے تو ٹرمپ نے کہا کہ انتظار کریں۔

چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ تمام عالمی بحرانوں کا حل صرف سفارت کاری اور مذاکرات میں ہے، اختلافات کے باوجود دونوں ممالک کو باہمی احترام اور پر امن بقائے باہمی کے اصولوں پر چلنا ہوگا، امریکی وفد کو چین میں خوش آمدید کہتے ہیں، چین اور امریکہ دو بڑی طاقتیں ہیں، عالمی استحکام ہمارا مشترکہ ہدف ہے۔

چینی صدر نے کہا کہ عالمی امن اور معاشی ترقی کو برقرار رکھنا دونوں ممالک کی تاریخی ذمہ داری ہے، پوری دنیا کی نظریں اس وقت بیجنگ میں ہونے والے مذاکرات پر ہیں، اختلافات کے باوجود دونوں ممالک کو باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر چلنا ہوگا۔

شی جن پنگ نے کہا کہ تائیوان کا مسئلہ امریکہ اور چین کے تعلقات میں سب سے اہم مسئلہ ہے، تائیوان کی آزادی اور امن ایک ساتھ نہیں چل سکتے، تجارتی جنگ میں کوئی فاتح نہیں، تائیوان کے مسئلے کو درست طریقے سے نہ سنبھالا گیا تو دونوں ملکوں میں تصادم ہوگا۔

انہوں نے امریکی کمپنیوں کے سی ای اوز سے کہا کہ امریکہ اور چین کی تجارتی ٹیموں کے درمیان گزشتہ روز ہونے والے مذاکرات میں مجموعی طور پر متوازن اور مثبت نتائج حاصل ہوئے، کاروبار کیلئے چین کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔ شی جن پنگ نے کہا کہ چین کی ترقی میں امریکی کمپنیوں کا بہت زیادہ کردار ہے اور اس سے دونوں فریقوں کو فائدہ ہوا، بیجنگ باہمی تعاون مزید مضبوط بنانے کیلئے امریکہ کا خیر مقدم کرتا ہے۔

چینی صدرنے ٹرمپ سے کہا کہ دنیا اس وقت ایران تنازع اور عالمی سپلائی چین کے سنگین چیلنجز سے گزر رہی ہے، اس وقت دنیا میں ایسی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں جو ایک صدی میں نہیں دیکھی گئیں، بین الاقوامی صورتحال مسلسل تغیر پذیر اور ہنگامہ خیز ہے، کیا ہم مل کر عالمی چیلنجوں کا مقابلہ اور دنیا کو استحکام فراہم کر سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنی دنیا اور اپنے عوام لیے ایک روشن مستقبل تعمیر کر سکتے ہیں؟ یہ سوالات ہیں جن کا جواب بڑے ممالک کے رہنماو¿ں کی حیثیت سے ہمیں دینا ہے۔

چینی صدر کا کہنا تھا کہ میرا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات سے زیادہ مشترکہ مفادات موجود ہیں، دونوں ممالک کے مستحکم دوطرفہ تعلقات پوری دنیا کیلئے فائدے مند ہیں، چین اور امریکا دونوں تعاون سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور تصادم سے نقصان ہوگا، ہمیں ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ شراکت دار بننا چاہئے۔ شی جن پنگ نے کہا کہ ہمیں ایک دوسرے کو کامیاب اور خوشحال ہونے میں مدد کرنی چاہئے، دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلنے کا صحیح راستہ تلاش کرنا چاہئے۔

اس موقع پر امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے ابتدائی کلمات میں کہا کہ آج صدر شی جن پنگ سے ملاقات کرنا باعث اعزاز ہے، اور آپ کا دوست ہونا اعزاز کی بات ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ وہ اس دورے پر دنیا کے بہترین کاروباری رہنماو¿ں کو ساتھ لائے ہیں، بعض لوگوں نے اس ملاقات کو اب تک کی سب سے بڑی سمٹ قرار دیا ہے، اور وہ اس اجلاس کے منتظر ہیں۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ تعلقات ہمیشہ سے انتہائی شاندار رہے ہیں، تاریخی سربراہی ملاقات کا سب سے بڑا اور بنیادی فوکس باہمی تجارت پر ہوگا، دونوں ممالک کے درمیان آنے والی کئی دہائیوں تک بہترین اور مضبوط تعلقات قائم رہیں گے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ہمارے تعلقات ہمیشہ اچھے رہے ہیں، اور جب بھی مشکلات آئیں ہم نے مل کر انہیں حل کیا، میں آپ کو کال کرتا تھا اور آپ مجھے کال کرتے تھے، لوگ نہیں جانتے کہ جب بھی ہمیں کوئی مسئلہ درپیش ہوا، ہم نے جلدی حل کر لیا، میں ہر ایک سے یہی کہتا ہوں کہ چینی صدر عظیم رہنما ہیں۔

واضح رہے گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے 2 روزہ سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچے ہیں،امریکی صدر کے وفد میں اہم شخصیات شامل ہیں، ٹیسلا کے بانی ایلون مسک، این ویڈیا کے سی ای او جینسن ہوانگ وفد کا حصہ ہیں، ایپل کے سی ای او ٹم کک، بلیک راک سی ای او لیری فنک اور دیگر بھی وفد میں شامل ہیں۔