انگور اڈہ،اسلام آباد،پشاور: (بیورورپورٹ)افغان طالبان کی شہری آباد ی پر گولہ باری، ایک خاندان کے5افراد سمیت 8 زخمی ہوگئے۔
طالبان کی جانب سے ایک بار پھر جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں پاکستانی سول آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق 29 اپریل 2026 کو افغان طالبان نے سرحدی علاقے میں مارٹر گولا فائر کیا جو مقامی شہریوں کریم خان اور رحمت اللہ کے گھر پر آ گرا،نتیجے میں ایک ہی خاندان کے5افراد سمیت 8 زخمی ہوگئے۔
میڈیکل افسر ڈاکٹر اشفاق کے مطابق بچوں،خواتین سمیت 8 زخمیوں کو طبی علاج کیلئے ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے،اہل علاقہ کے مطابق سرحد پار سے ہونےوالی گولہ باری میں عام شہری خصوصاً بچے نشانہ بن رہے ہیں ۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے مسلسل پاکستان کی سول آبادی کو نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ فتنے کا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں۔
ادھر وزیر داخلہ محسن نقوی نے جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ میں افغان طالبان کی جانب سے شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا معصوم شہریوں پر حملے کسی صورت قابل قبول نہیں، افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے گٹھ جوڑ کا معصوم بچوں اور خواتین کو نشانہ بنانا انتہائی غیر انسانی فعل ہے، شہری آبادی کو نشانہ بنا کر افغان طالبان نے انسانی حقوق کے چارٹر کی دھجیاں اڑائیں،سکیورٹی فورسز افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا منہ توڑ جواب دے رہی ہیں ،وزیر داخلہ نے زخمی بچوں و خواتین کی جلد صحتیابی کیلئے دعا کی۔
افغان طالبان کی شہری آباد ی پر گولہ باری، ایک خاندان کے5افراد سمیت 8 زخمی



















