واشنگٹن،تہران،برسلز:(بیورورپورٹ،مشرق نیوز)امریکہ نے کہاہے لبنان سیزفائر کا حصہ نہیں،حتمی معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر بدترین بمباری ہوگی۔
اپنے بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سخت بیان دیتے ہوئے خبردار کیا کسی بھی وجہ سے صورتحال غیر متوقع ہوئی تو ایران پر پہلے سے زیادہ بڑے و طاقتور حملے کیے جائیں گے،کسی بھی ممکنہ معاہدے تک امریکی بحری جہاز، طیارے اور فوجی اہلکار ایران کے اطراف موجود رہیں گے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری نمٹا جا سکے۔
ٹرمپ نے کہا ایران کے پاس کوئی جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے، آبنائے ہرمز کھلی اور محفوظ رہے گی، کسی بھی وجہ سے ایسا نہ ہواتو پھر فائرنگ شروع ہو جائےگی اور پہلے سے کہیں زیادہ بڑی، بہتر و طاقتور ہوگی جو دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھی،امریکی صدر نے کہاحملے پہلے سے زیادہ بڑے اور طاقتور ہوں گے،حالات بگڑے تو امریکہ دوبارہ کارروائی کرنے سے گریز نہیں کرے گا،امریکی فوج مکمل طور پر تیار اور آئندہ کامیابی کےلئے پرعزم ہے،ایران کو ہتھیار فراہم کرنےوالے ممالک کی امریکہ کو برآمد کی جانےوالی تمام اشیا پر 50 فیصد ٹیرف عائد ہوگا، ٹیرف میں کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں ہوگی۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا لبنان کے معاملے پر معاہدہ متاثر ہوتا ہے تو ایران کا اپنا فیصلہ ہوگا کیونکہ لبنان کبھی بھی سیزفائر معاہدے کا حصہ نہیں رہا،پاکستان مذاکراتی عمل آگے بڑھارہاہے،زمینی حقیقت یہی دونوں ممالک بات چیت کر رہے ہیں،ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا وعدہ کیا اور جنگ بندی قائم ہے ،ایران نے کسی بھی معاہدے کی خلاف ورزی کی تو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
جے ڈی وینس نے کہا امریکہ ،اسرائیل نے کبھی بھی لبنان کو سیزفائر میں شامل کرنے پر اتفاق نہیں کیا ،معاملے پر ایران کو غلط فہمی ہے،لبنان کا الگ مسئلہ جلد حل کر لیا جائےگا،ایرانی نظام کے اندر کچھ عناصر مذاکرات کے حق میں نہیں ،امریکہ مضبوط پوزیشن میں ہے اور بات چیت کا عمل جاری رکھے گا۔
ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا اسرائیل کسی بھی وقت جنگ دوبارہ شروع کرنے کےلئے مکمل طور پر تیار ہے،مزید اہداف کوکسی معاہدے کے ذریعے یا جنگ دوبارہ شروع کرکے حاصل کیا جائےگا،ایران کےساتھ ہونےوالی جنگ بندی میں لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ شامل نہیں۔
نیتن یاہو نے کہا فوج مکمل الرٹ ،انگلیاں ٹریگر پر ہیں، کسی بھی ممکنہ خطرے یا فیصلے کی صورت میں فوری کارروائی کی جا سکتی ہے،چاہے سفارتی معاہدہ ہو یا فوجی طاقت، اسرائیل ایران کے افزودہ یورینیم پروگرام کو ختم کرنے کےلئے پرعزم ہے،موجودہ جنگ بندی اسرائیل کے مکمل تعاون سے طے پائی،تنازع کا اختتام نہیں سمجھا جانا چاہیے بلکہ عارضی مرحلہ ہے۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے جنگ بندی کی خلاف ورزی پر اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا دھوکہ دہی سے مذاکرات بے معنی ہوجائیں گے،اسرائیلی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں سے کشیدگی میں اضافہ ہوگا،لبنان پر اسرائیلی حملے کھلی خلاف ورزی اورجنگ بندی معاہدے کو نقصان پہنچا رہے ہیں،ایران اپنے لبنانی بھائیوں ،بہنوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا،انگلیاںٹرگر پر رہیں گی۔
نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے کہا ایرانی وفد امن مذاکرات کےلئے اسلام آباد جائےگا،امریکہ لبنان پر اسرائیلی حملے رکوائے، خطے کے امن میں لبنان کا شامل ہونا ضروری ہے ،آنےوالے گھنٹے بہت اہم ہیں،ایران گزشتہ رات جنگ بندی کی خلاف ورزی کا جواب دینے والا تھا لیکن پاکستان کی مداخلت پر رکا۔
سپیکر ایرانی پارلیمنٹ باقر قالیباف نے کہا لبنان جنگ بندی کا ”ناقابل علیحدہ حصہ“ اورامریکہ کےساتھ 2ہفتوں کی جنگ بندی میں اہم جزو تھا،کسی بھی خلاف ورزی کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے، لبنان و مزاحمتی محور ایران کے اتحادی اور جنگ بندی کا حصہ ہیں،جنگ بندی خلاف ورزی کی واضح قیمت چکانا ہوگی، بھرپور و سخت جواب دیا جائےگا۔
علاوہ ازیں یورپی ممالک نے ایران امریکہ سیز فائر کا خیر مقدم کرتے ہوئے تمام فریقین سے جنگ بندی پرعمل درآمد کرنے کی اپیل کردی۔
برطانیہ،فرانس، اٹلی، جرمنی،کینیڈا، ڈنمارک، نیدرلینڈز، سپین، یورپی کمیشن، یورپی کونسل اور جاپان کے رہنماوں نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا پاکستان و دیگر شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں، مذاکرات کا مقصد جنگ کا جلد و مستقل خاتمہ ہوناچاہیے جو صرف سفارتی ذرائع سے ہی ممکن ہے،بامعنی معاہدے کےلئے فوری پیشرفت کی بھرپورحوصلہ افزائی کرتے ہیں، اقدام ایران کے شہریوں کے تحفظ کےلئے انتہائی اہم اور خطے میں سکیورٹی کو یقینی بنانے میں مدد دے گا،لبنان میں بھی جنگ بندی پرعملدرآمد یقینی بنایاجائے۔
حتمی معاہدہ نہ ہوا تو بدترین بمباری ہوگی،ٹرمپ،انگلیاں ٹریگر پر ہیں،ایران


















