پاکستان میں معاشی استحکام کیلئے محتاط پالیسی، اصلاحات ناگزیر ہیں،آئی ایم ایف


اسلام آباد:(بیورورپورٹ)نمائندہ آئی ایم ایف ڈاکٹر ماہر بینجی نے کہا ہے پاکستان میں معاشی استحکام کےلئے محتاط مالیاتی پالیسی، سخت مانیٹری نظم و ضبط اور اصلاحات ناگزیر ہیں۔

سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ماہر بینجی نے کہامشرق وسطیٰ میں کشیدگی عالمی و پاکستانی معیشت کےلئے خطر ہ ہے، تنازع سے توانائی کی منڈیاں متاثر ہورہی ہیں جو تیل کے دام بڑھنے کا سبب ہیں،مشرق وسطیٰ تنازع تجارتی راستے و مالیاتی حالات کو بری طرح متاثر کر رہا ہے، پاکستان کا آئی ایم ایف پروگرام درست سمت میں آگے بڑھ رہا ، معاشی جھٹکوں سے نمٹنے کےلئے بہتر تیاری کی ضرورت ہے۔

نمائندہ آئی ایم ایف نے کہامشرق وسطیٰ جنگ 2026 کے دوران عالمی معاشی ترقی کو نمایاں طور پر سست کر دے گی،پاکستان سمیت تیل درآمد کرنےوالے ممالک کو مشکلات حالات کا سامنا کرنا پڑےگا،توانائی و خوراک کی بڑھتی قیمتوں، ترسیلات زر میں ممکنہ کمی و سخت مالیاتی حالات جیسے سنگین خطرات ہوں گے،مشرق وسطیٰ حالات کے باعث عالمی ترسیل کے نظام، خوراک اور کھاد کی قیمتوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں،تنازع سے خطے میں معاشی ترقی کی رفتار سست ،تنازع طویل ہونے سے مزید تنزلی کے خدشات بڑھ گئے۔

ڈاکٹر ماہر بینجی نے کہا پاکستان معاشی استحکام برقرار رکھنے، مالیاتی اور بیرونی ذخائر کو مضبوط بنانے کےلئے پرعزم رہے، مہنگائی سے کمزور طبقات کے تحفظ کےلئے سبسڈیز کی بجائے ٹارگٹڈ و عارضی اقدامات اپنانا ہوں گے،معیشت کو زیادہ مضبوط و لچکدار بنانے کیلئے تجارتی راستوں میں وسعت، اہم بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، پاکستان علاقائی تعاون کے فروغ، نجی شعبے کی قیادت میں جامع ترقی کو یقینی بنانے پر زور دے۔