ناقص منصوبہ بندی، گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کا نفاذ شہریوں کیلئے مشکلات کا باعث بن گیا

لاہور (میاں ذیشان) بورڈ آف ریونیو پنجاب اور پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کی ناقص منصوبہ بندی اور نامکمل تیاری کے باعث گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کا نفاذ شہریوں کیلئے مشکلات کا باعث بن گیا ہے۔ متعلقہ ادارے مقررہ مدت میں ریکارڈ مکمل طور پر ڈیجیٹلائز نہ کر سکے، جبکہ نئے نظام کا اطلاق اس سے قبل ہی کر دیا گیا جس کے نتیجے میں جائیداد کے لین دین اور انتقالات کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔تفصیلات کے مطابق حکومت پنجاب کی جانب سے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کو جائیداد کی ملکیت کی مستند دستاویز کے طور پر نافذ کر دیا گیا ہے، تاہم اس نظام کے عملی نفاذ میں پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی اور بورڈ آف ریونیو کی متعدد انتظامی اور تکنیکی خامیاں سامنے آ رہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے اجرا کیلئے متعلقہ جائیداد کا مکمل کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ، مالک کی بائیومیٹرک تصدیق، قومی شناختی کارڈ، انتقال یا رجسٹری کا اندراج اور متعلقہ موضع کا ریکارڈ آن لائن دستیاب ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے، لیکن لاہور سمیت متعدد اضلاع میں کئی مواضعات کا ریکارڈ ابھی تک مکمل طور پر ڈیجیٹلائز نہیں ہو سکا، جس کے باعث ہزاروں جائیدادی معاملات التوا کا شکار ہیں۔ پنجاب حکومت اور پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی نے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کی تشہیر پر کروڑوں روپے خرچ کیے، تاہم متعلقہ ادارے بنیادی انفراسٹرکچر، مکمل ڈیٹا اور آن لائن نظام کو مستحکم کیے بغیر اس کے نفاذ کی جانب بڑھ گئے۔ متعدد لینڈ ریکارڈ سروس سنٹرز پر سرور کی سست روی، ریکارڈ میں تضادات، بائیومیٹرک تصدیق کے مسائل اور نامکمل ڈیٹا کی وجہ سے سرٹیفکیٹ کے اجرا میں تاخیر ہو رہی ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ چیف سیکرٹری پنجاب کی جانب سے شہری مواضعات کی کمپیوٹرائزیشن مکمل کرنے کی مقررہ ڈیڈ لائن بھی بروقت پوری نہ ہو سکی تاہم اس کے باوجود گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کو عملی طور پر نافذ کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق جب تک تمام مواضعات، رجسٹریوں اور انتقالات کا ریکارڈ سو فیصد درست اور آن لائن دستیاب نہیں ہو جاتا، گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کا نظام اپنے اصل مقاصد حاصل کرنے میں مشکلات کا شکار رہنے کا خدشہ برقرار رہے گا۔