ریلوے کیرن سمیت مزید 5 ہسپتال آوٹ سورس نہ ہوسکے

لاہور(اپنے نمائندے سے)ریلوے کیرن لاہور سمیت دیگر مزید 5 ہسپتال تاحال آوٹ سورس نہ ہوسکے، پی پی پی منصوبہ برسوں سے تعطل کا شکار، جدید طبی سہولیات کی فراہمی میں تاخیر، ملازمین اور ریلوے پنشنرز مشکلات سے دوچار، ادویات کی عدم فراہمی سمیت مختلف نوعیت کی ٹیسٹ مشینری بھی خراب ملازمین علاج نجی ہسپتالز و لیبارٹریز سے رجوع کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔وزارت ریلویز کی جانب سے محکمہ کو مالی بوجھ سے نجات دلانے کی خاطر مختلف اثاثہ جات کو آوٹ سورس کرنے کی منصوبہ بندی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے ملک بھر میں ملازمین کو فری طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے 7بڑے ہسپتالز کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت نجی شعبے کے ذریعے چلانے کا منصوبہ کئی برس قبل شروع کیا گیا تھا، تاحال عملی شکل اختیار نہیں کیا جا سکا اس دوران ریلوے انتظامیہ مختلف اوقات میں منصوبے کیلئے ٹینڈر جاری کرتی رہی، تاہم ہسپتال کی مکمل آوٹ سورسنگ یا نجی آپریٹر کے حوالے کرنے کا عمل مکمل نہیں ہو سکا جبکہ راولپنڈی ہسپتال آوٹ سورس کیا گیا ہے جبکہ دیگر 6ہسپتالز کو کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جس میں کراچی ،ملتان ، پشاور، کوئٹہ ،سکھر اور لاہور شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق کیرن ہسپتال کو جدید طبی آلات، نئے وارڈز، بہتر ایمرجنسی سروسز اور جدید انتظامی نظام سے آراستہ کیا جائے تاکہ ریلوے ملازمین، پنشنرز اور عام شہریوں کو معیاری طبی سہولیات میسر آ سکیں تاہم منصوبہ متعدد انتظامی، قانونی اور مالیاتی رکاوٹوں کے باعث تاحال التوا کا شکار ہے جس کی وجہ نجی سرمایہ کار کے انتخاب میں مشکلات، معاہدے کی شرائط پر اختلاف، مالیاتی ماڈل کی منظوری میں تاخیر، مختلف سرکاری اداروں سے منظوریوں کا طویل عمل اور ریلوے ملازمین کی نمائندہ تنظیموں کے تحفظات شامل ہیں کیرن ہسپتال لاہور کو آو¿ٹ سورس نہیں کیا گیاوفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے اپریل 2025 میں اعلان کیا تھا کہ ریلوے کے ہسپتال PPP ماڈل پر آو¿ٹ سورس کیے جائیں گے۔جون 2026 میں بھی انہوں نے تصدیق کی کہ ریلوے اسکول اور ہسپتال آو¿ٹ سورس ہو رہے ہیں پہلے 2021 کی رپورٹ میں بھی لاہور ریلوے ہسپتال کا نام 7 ہسپتالوں کی فہرست میں تھا جنہیں BOT ماڈل پر دینا تھا جون 2026 تک ریلوے کی جانب سے صرف یہ کہا گیا کہ ہسپتال "آوٹ سورس کیے جا رہے ہیں ابھی کسی ہسپتال کیلئے نجی کمپنی سے حتمی معاہدے پر دستخط یا ہینڈ اوور کی خبر سامنے نہیں آئی اوٹ سورسنگ میں BOT ماڈل: 30 سال کا معاہدہ ہوگا جس میں 2 سال تعمیر اور اس میں 28 سال آپریشن کے ہوں گئے اس کے علاوہ ہسپتالز میں موجود بستروں کی تعداد میں اضافہشامل ہے جس میں کیرن لاہور ریلوے ہسپتال کے 266 بستروں کو 500 تک بڑھایا جائیگا۔ ملازمین ریلوے نے کہا ہے کہ ملازمین کا علاج مفت رہے گا اور ملازمین متاثر نہیں ہوں گے موجودہ حالات میں کیرن ہسپتال میں ادوایات کی عدم فراہمی اور مختلف بیماری کی تشخیص کی خاطر ٹیسٹ مشینری خراب ہے جس کی وجہ سے نجی لیبارٹریز سے مہنگے داموں ٹیسٹ کروانے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ ریلویز حکام کا کہنا ہے کہ آوٹ سورس کے عمل چل رہا ہے کچھ تکنیکی وجوہات کی وجہ سے تاخیر ہے۔ اس معاہدے سے علاج معالجہ کی خاطر ہسپتالز کو 4کروڑ روپے کی فراہمی ہو گی اس وقت راولپنڈی ہسپتال آوٹ سورس کے مطابق چل رہا ہے منصوبے کا مقصد ہسپتال کی نجکاری نہیں بلکہ اسے جدید خطوط پر استوار کرنا، علاج کی سہولیات بہتر بنانا اور نجی سرمایہ کاری کے ذریعے ادارے کی استعداد میں اضافہ کرنا ہے۔ اس مقصد کیلئے مختلف اوقات میں اظہار دلچسپی اور ٹینڈر بھی جاری کئے گئے ہیں۔