اسلام آباد: (بیورورپورٹ)بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقاتیں کیس میں جیل انتظامیہ سے مکمل ریکارڈ اور جامع رپورٹ طلب ،سپریم کورٹ نے 3 ہفتوں کے اندر درکار ریکارڈ جامع رپورٹ سمیت جمع کرانے کی ہدایت کردی۔
جسٹس علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سماعت کی،ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے موقف اختیار کیا کیس میں جامع رپورٹ جمع کرانے کیلئے مہلت دی جائے، عدالت نے درخواست منظور کرلی۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب وسیم ممتاز نے درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا پنجاب حکومت کو درخواستوں کی سماعت پر اعتراض ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے متفقہ فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کی جا سکتی۔
جسٹس علی مظہر نے ریمارکس دیئے عدالت کو بتایا جائے کتنی ملاقاتیں ، کب ہوئیں اور کن افراد نے ملاقات کی،مکمل و جامع رپورٹ جمع کرائی جائے،اسلام آباد ہائیکورٹ کو یقین دہانی کرائی گئی تھی جیل کے باہر میڈیا ٹاک نہیں کی جائے گی،کیا جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرنا یقین دہانی کی خلاف ورزی نہیں؟،بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے موقف اختیار کیا اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم متفقہ نہیں تھا،جسٹس علی مظہر نے کہا فیصلہ متفقہ نہیں تھا تو نظرثانی درخواست دائر کی جا سکتی تھی۔
عمران خان سے ملاقاتوں کا کیس،جیل انتظامیہ سے مکمل ریکارڈ طلب



















