تہران:(مشرق نیوز)امریکہ کے مسلسل حملے،ایران نے مفاہمتی یادداشت پرعملدرآمد معطل کردیا۔
نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہاامریکہ نے مسلسل حملوں و مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کے باعث خود ہی معاہدے کو غیر موثر بنا دیا، ایران نے بھی عملدرآمد و اپنی ذمہ داریاں فی الحال معطل کر دیں،پوری توجہ ملکی دفاع پر مرکوز ،موجودہ حکمت عملی کامطلب جارحیت کا بھرپور جواب دینا اور حملہ آوروں کو سبق سکھانا ہے۔
پاکستان میں ایران کے سفیر رضا مقدم امیری نے کہا ایران مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی پر مبنی امریکی تشریح کو قبول نہیں کرسکتا،پاکستانی ثالثی کے بعد طے پانے والی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کی گئی، امریکہ نے من مانی تشریح کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کے بعض حصوں پر کنٹرول حاصل کیا،مفاہمتی یادداشت ،بین الاقوامی اصولوں کے برعکس جنگ شروع کر کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایاگیا، بین الاقوامی برادری امریکی جارحیت و غیر ذمہ دارانہ اقدام کی بھرپور مذمت کرے۔
سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے اپنے بیان میں کہا حملے مزید 2سے 3روز تک جاری رہے تو ایران بھی طبل جنگ بجا دے گا،مذاکرات و جنگ ساتھ ساتھ چلنے کی پالیسی اب ختم ہو چکی۔
پاسداران انقلاب نے کہاایران پر امریکہ کی معاشی و سمندری پابندیاں عالمی توانائی کی فراہمی میں خلل کا باعث بنیں گی،اثرات یورپ تک جائینگے،آبنائے ہرمز ،باب المندب 2نہایت اہم و تزویراتی آبی گزرگاہیں خطے و دنیا میں توانائی، تجارت ،سکیورٹی کے توازن پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
بریگیڈیئر جنرل مجید موسوی نے کہا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم ہونے تک جوابی کارروائیاں جاری رہیں گی، شہریوں ،انفراسٹرکچر پرحملے کیے گئے تو زیادہ سخت جواب ہوگا،ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے امریکی حملوں کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے کہا ایرانی عوام پہلے سے کہیں زیادہ متحد، پرعزم اور دشمن کو سخت جواب دینے کےلئے مکمل طور پر تیار ہیں،وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا شہدا کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور ایران اپنی سرزمین کے دفاع کےلئے آخری سانس تک جدوجہد جاری رکھے گا۔
امریکہ کے مسلسل حملے،ایران نے مفاہمتی یادداشت پرعملدرآمد معطل کردیا


















