لاہور (مرزا ندیم بیگ/تصاویر: میاں شاہنواز) لاہور شہر میں ٹریفک نظم و ضبط کو بہتر بنانے، شہریوں کو محفوظ سفر کی سہولت فراہم کرنے اور ٹریفک پولیس کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے چیف ٹریفک آفیسر لاہور ایس ایس پی سید عبدالرحیم شیرازی نے چارج سنبھالتے ہی فیلڈ میں متحرک انداز اختیار کر لیا ہے،ان کاتعلق 36ویں کامن سے ہے اور 2009 میں بطور اے ایس پی پولیس سروسز آف پاکستان جوائن کی مختلف اہم عہدوں پر کام کرنے کا تجربہ ہے، جن میں کراچی، لاڑکانہ، لاہور اور منڈی بہاو¿الدین شامل ہیں۔ 2021 میں قائداعظم پولیس میڈل بھی حاصل کیااپنے پہلے ہی روز دفتر آمد پر چاق و چوبند دستے کی سلامی لینے کے بعد انہوں نے عملی اقدامات کا آغاز کیا اور واضح پیغام دیا کہ کام صرف دفتروں میں نہیں بلکہ سڑکوں پر نظر آئیگا۔ سی ٹی او لاہور کا کہناہے کہ میری اولین ترجیح شہریوں کو محفوظ، منظم اور سہل ٹریفک نظام فراہم کرنا ہے۔ ہم ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ حادثات کی روک تھام پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ قانون کی عملداری ہر صورت یقینی بنائی جائیگی مگر اس کے ساتھ شہریوں کے ساتھ خوش اخلاقی بھی لازم ہے،فیلڈ وزٹس اور شہداءکو خراج تحسین پیش کرنے کے بارے سی ٹی او لاہور کا کہنا تھا کہ ٹریفک پولیس کے شہداءاور غازی ہمارا فخر ہیں۔ کیپٹن (ر) سید احمد مبین شہید کی قبر پر حاضری میرے لئے اعزاز تھا۔ اس کے ساتھ فیلڈ وزٹ کا مقصد یہ تھا کہ زمینی حقائق کا براہ راست جائزہ لیا جائے تاکہ فوری اور موثر فیصلے کئے جا سکیں،ماڈل روڈز کے دورے کے دوران آپ نے کیا ہدایات دی کہ لین لائن ڈسپلن پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے۔ ون وے کی خلاف ورزی، زگ زیگ ڈرائیونگ اور سگنل توڑنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ہوگی،شدید گرمی کو مدنظر رکھتے ہوئے وارڈنز میں چھتریاں تقسیم کی گئی ہیں۔ انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ دوران ڈیوٹی پانی ہمراہ رکھیں اور اپنی صحت کا خیال رکھیں۔ فورس کی ویلفیئر ہماری ذمہ داری ہے کیونکہ یہی اہلکار سڑکوں پر شہریوں کی خدمت کر رہے ہوتے ہیں،ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف حکمت عملی واضح کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی ہے۔ صرف 24 گھنٹوں میں 2132 چالان کیے گئے جبکہ 818 گاڑیاں بند کی گئیں۔ بغیر ہیلمٹ، لین لائن خلاف ورزی، ون وے اور سگنل کی خلاف ورزی پر سخت ایکشن لیا جا رہا ہے۔ سیف سٹی کیمروں اور باڈی کیمز کے ذریعے نگرانی مزید مو¿ثر بنائی گئی ہے،اس کے علاوہ تمام اہلکاروں کو ہدایت کی ہے کہ شہریوں سے نہایت مہذب انداز میں پیش آئیں۔ گفتگو کا آغاز سلام سے کریں اور شہریوں کو ”سر“ اور ”میڈم“ کہہ کر مخاطب کریں۔ اخلاق اور قانون دونوں ساتھ ساتھ چلیں گے،کرکٹ میچز اور بڑے ایونٹس کے دوران ٹریفک مینجمنٹ بارے چیف ٹریفک پولیس آفسیر کا کہنا تھا کہ ہم نے خصوصی ٹریفک پلان ترتیب دیا ہے تاکہ شہریوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا ہو۔ ڈائیورشنز، پارکنگ اور ٹریفک روانی کیلئے اضافی نفری تعینات کی جاتی ہے تاکہ شہر کا نظام متاثر نہ ہوجبکہ خطرناک ڈرائیونگ اور سڑکوں پر ہلہ گلہ کرنے والوں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔ حالیہ واقعے میں فیروزپور روڈ پر نوجوانوں کے گروپ کو گرفتار کر کے ایف آئی آر درج کی گئی۔ سڑکیں کسی بھی قسم کے ہنگامے یا رکاوٹ کیلئے نہیں ہیں، یہ صرف شہریوں کی آمد و رفت کیلئے ہیں،اینٹی بیگنگ بارے کہنا تھا کہ ہم نے اینٹی بیگنگ ٹیم کو متحرک کیا ہے۔ 76 بھکاریوں کو حراست میں لے کر مختلف فلاحی اداروں کے حوالے کیا گیا۔ پیشہ ور بھکاری نہ صرف شہریوں کو ہراساں کرتے ہیں بلکہ ٹریفک کی روانی میں بھی خلل ڈالتے ہیں، ان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی،ماحولیاتی آلودگی اور سموگ کے حوالے سے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں، بغیر ترپال ریت بردار ٹرالیوں اور بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ سموگ کے تدارک کیلئے ٹریفک پولیس اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہے،سی ٹی او لاہور نے شہریوں کو پیغام دیا ہے کہ وہ ٹریفک قوانین کی پاسداری صرف پولیس نہیں بلکہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ ہم شہریوں کے تعاون کے بغیر نظام کو بہتر نہیں بنا سکتے۔ ہمارا مقصد صرف چالان کرنا نہیں بلکہ محفوظ اور مہذب ٹریفک کلچر کو فروغ دینا ہے،سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی کے اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ وہ محض اعلانات تک محدود نہیں بلکہ عملی میدان میں متحرک قیادت پر یقین رکھتے ہیں۔ سخت انفورسمنٹ، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، اور شہریوں کے ساتھ خوش اخلاقی یہ تینوں عناصر لاہور کے ٹریفک نظام میں بہتری کی نئی امید پیدا کر رہے ہیں۔
قانون کی عملداری بھی بہرصورت یقینی بنائی جائیگی : چیف ٹریفک آفیسر لاہور



















