اسلام آباد ہائیکورٹ ججوں کے تبادلے سپریم کورٹ میں چیلنج

اسلام آباد (مشرق نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین ججوں کے تبادلوں کا معاملہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کر دیا گیا۔ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے سینئر وکیل حامد خان کے ذریعے آئینی درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ تبادلے آئین کے منافی ہیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ججوں کے تبادلے آئین کے آرٹیکل 2/A کی خلاف ورزی ہیں اور اس عمل میں شفافیت کا شدید فقدان پایا جاتا ہے، موقف اختیار کیا گیا ہے کہ تبادلوں کی وجوہات بھی واضح نہیں کی گئیں جس سے عدالتی نظام کی خودمختاری پر سوالات اٹھتے ہیں۔ درخواست گزار نے وفاقی حکومت اور جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کو فریق بناتے ہوئے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ججوں کے تبادلوں کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

درخواست میں یہ موقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا آئینی اختیار سماعت کسی صورت وفاقی آئینی عدالت کو منتقل نہیں کیا جا سکتا۔، وفاقی آئینی عدالت چونکہ 27ویں آئینی ترمیم کے تحت قائم کی گئی ہے اس لئے وہ ان معاملات کی سماعت کی مجاز نہیں۔ درخواست میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ججوں کے تبادلے آرٹیکل 200 میں ترمیم کے بعد کئے گئے جو آئینی توازن کو متاثر کرتے ہیں۔

واضح رہے یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججوں کے تبادلوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا جس کے بعد وکلا برادری اور قانونی حلقوں میں تشویش پیدا ہوئی۔ اب عدالت عظمیٰ اس درخواست پر آئندہ سماعت میں معاملے کا جائزہ لے گی اور فیصلہ کرے گی کہ آیا ججوں کے تبادلے آئینی حدود کے مطابق ہیں یا نہیں۔