تہران،واشنگٹن،انقر ہ:(مشرق نیوز،بیورورپورٹ)پاکستان کی ثالثی،امریکہ،ایران نے جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق کرلیا۔
ترک خبر ایجنسی انادولو کے مطابق پاکستانی حکومتی ذرائع نے بتایادونوں فریقین نے جنگ بندی میں توسیع پر رضامندی سے ثالثوں کو آگاہ کردیا ،مدت طے کرنے کےلئے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے،رپورٹ میں کہا گیا جنگ بندی میں توسیع کا مقصد شدید اختلافات کے معاملات پر بات چیت جاری رکھنے کا موقع فراہم کرنا ہے،مدت کا تعین آئندہ مذاکرات ،دونوں فریقوں کے درمیان ہونےوالی مشاورت کے دوران کیا جائے گا۔
دوسری جانب ایران نے مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے کہا جنگ بندی کی مدت باضابطہ طور پر شروع ہی نہیں ہوئی، توسیع کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،تہران ،واشنگٹن کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کیلئے کوئی بات چیت نہیں ہو رہی،امریکہ نے عبوری معاہدے کے 48 گھنٹے بعد ہی خلاف ورزی کی اور چند روز بعد معاہدے سے دستبردار ہوگیا،سینئرایرانی حکام کے مطابق معاہدے کی بحالی یا وعدوں کےلئے نئی مدت طے کرنے کیلئے ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ تو جاری ہے تاہم مذاکرات میں تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
دریں اثنا ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جاپانی وزیراعظم سے ٹیلی فونک گفتگو میں خطے میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کا بنیادی ذمہ دار امریکہ ،اسرائیل کو قرار دیتے ہوئے کہا ایران خطے میں بدامنی کا خواہاں نہیں،امریکہ، اسرائیلی حملوں میں سپریم لیڈر، عام شہریوں ،میناب سکول کے بچوں کوشہید ،جارحانہ کارروائیوں میں شہری بنیادی ڈھانچے کو تباہ کیا گیا،ایران نے بین الاقوامی قوانین کے دائرہ کار سے باہر کوئی اقدام نہیں کیا،پڑوسی ملکوں سے تعلقات بہتر بنانے کیلئے مسلسل کوششیں کیں۔
مسعود پزشکیان نے کہادشمن اندرونی انتشار پیدا کرکے اسلامی نظام کو سرنگوں کرنا چاہتا ، موجودہ کشمکش ماضی کی نسبت زیادہ پیچیدہ ، دشمن کا مقصد ملک کے اندر انتشار اور بدامنی پیدا کرنا ہے،مشن و مخصوص اہداف پر مرکوز انداز میں آگے بڑھنا چاہیے، عوام کو خود سے دور نہیں کرنا چاہیے ایسا کرنے سے نقصان ہوگا۔
جاپانی وزیراعظم نے جنگ کے خاتمے کےلئے سفارتی ذرائع اختیار کرنے کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہاباب المندب میں کشیدگی میں اضافے کو روکنے کےلئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرےں۔
پاکستان کی ثالثی،امریکہ،ایران جنگ بندی میں توسیع پر متفق،تہران نے تردید کردی

















