لاہور (میاں ذیشان) پنجاب میں بدعنوانی کے بڑے مقدمات کے فیصلوں میں مسلسل تاخیر اور ہزاروں کیسوں کے برسوں سے التوا کا شکار رہنے کے باعث احتسابی نظام کی موثریت پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں، جبکہ محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب نے ہائی پروفائل کرپشن کیسوں کو منطقی انجام تک پہنچانے، قومی خزانے کو پہنچنے والے اربوں روپے کے نقصان کے ازالے اور بااثر عناصر کے خلاف قانونی کارروائی تیز کرنے کیلئے خصوصی حکمت عملی پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق صوبے بھر میں سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضوں، جعلی انتقالات، سرکاری ریکارڈ میں ردوبدل، اختیارات کے ناجائز استعمال، ترقیاتی منصوبوں میں مالی بے ضابطگیوں، غیر قانونی ادائیگیوں، سرکاری فنڈز میں خوردبرد، جعلی ٹھیکوں، غیر قانونی بھرتیوں اور عوامی وسائل کے غلط استعمال سے متعلق زیر تفتیش بڑے مقدمات کی مرحلہ وار نگرانی کی جا رہی ہے۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کہ متعدد حساس مقدمات میں ریونیو، بلدیاتی اداروں، ہاﺅسنگ، تعمیرات، صحت، آبپاشی، تعلیم، لوکل گورنمنٹ اور دیگر سرکاری محکموں سے متعلق ریکارڈ دوبارہ طلب کر لیا گیا ہے جبکہ فرانزک آڈٹ، مالیاتی لین دین، بینک ریکارڈ، زمینوں کی ملکیت، سرکاری فائلوں اور متعلقہ افسران کے بیانات کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ تحقیقات کو مضبوط قانونی بنیادوں پر مکمل کیا جا سکے۔ پنجاب کی اینٹی کرپشن عدالتوں میں گزشتہ سال کے اختتام تک 2 ہزار 65 مقدمات زیر التوا تھے جبکہ اسی عرصے کے دوران 1 ہزار 831 نئے مقدمات درج ہوئے اور 1 ہزار 839 مقدمات نمٹائے گئے، تاہم اس کے باوجود سینکڑوں اہم مقدمات کئی برس گزرنے کے باوجود منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکے۔ محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب نے رواں سال زیر التوا مقدمات اور بالخصوص بڑے مالیاتی اور اراضی سے متعلق کیسوں کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کیلئے الگ مانیٹرنگ سسٹم قائم کیا گیا ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ جن مقدمات میں شواہد مکمل ہو چکے ہیں ان میں جلد گرفتاریاں، چالان عدالتوں میں پیش کرنے، ریفرنسز دائر کرنے، قومی خزانے کی ریکوری، سرکاری اراضی واگزار کرانے اور ملوث سرکاری افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارشات آئندہ چند ہفتوں میں متوقع ہیں۔ اس مقصد کیلئے مختلف اضلاع سے پیش رفت رپورٹس روزانہ کی بنیاد پر طلب کی جا رہی ہیں اور ضلعی افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ پرانے مقدمات کو غیر ضروری تاخیر کا شکار بنانے کے بجائے قانون کے مطابق جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ محکمہ انسداد بدعنوانی پنجاب کے حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت اربوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی، مالی بے ضابطگیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق مقدمات میں آئندہ دنوں اہم پیش رفت، مزید گرفتاریوں، ریکوری اور عدالتی کارروائیوں کا امکان ہے، جس کے باعث کئی ہائی پروفائل کیسز دوبارہ توجہ کا مرکز بن سکتے ہیں۔
پنجاب، بدعنوانی کے مقدمات کے فیصلوں میں برسوں کی تاخیر ،احتسابی نظام کی موثریت پر سنگین سوالات



















