واشنگٹن،تہران،بغداد :(بیورورپورٹ،مشرق نیوز)امریکہ،ایران کے ایک دوسرے پر بھرپور حملے،دھمکیاں،مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی خطرناک صورتحال اختیار کرگئی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا آبنائے ہرمز میں پانامہ کے پرچم بر دار ٹینکر جہاز پر ڈرون حملے کے جواب میںایران کی دفاعی تنصیبات، ڈورن ذخیرہ گاہوں کو نشانہ بنایا،ایران نے جوابی وار میں بحرین ،کویت میں امریکی تنصیبات پر میزائل ،ڈرون داغے۔
پاسداران انقلاب نے کہا جنگ بندی کی خلاف ورزی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شق ون کے منافی ہے، نتیجے میں تمام سفارتی عمل مکمل طور پر روک دیا جائےگا،آئندہ خلاف ورزی کرنے پر زیادہ سخت کارروائی کی جائےگی اور ایران کےخلاف کسی بھی جارحانہ اقدام کا فیصلہ کن جواب دینگے، خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے آنے والے دنوں میں جہنم کا سامنا کریں گے۔
اپنے بیان میں پاسداران انقلاب کی بحریہ نے کہاجنوبی ایرانی شہر سیریک پر امریکی حملہ آبنائے ہرمز پر ایران کی برتری کو ختم نہیں کر سکتا، ہرمز میں بحری آمدورفت کے ضوابط کے تحت خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی،امریکہ ،ایران عبوری معاہدے کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی نگرانی و کنٹرول ایران کے اختیار میں ہے ،قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے بحری جہازوں کے ساتھ پہلے سے زیادہ سختی سے نمٹا جائےگا۔
وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا اسرائیل کا لبنان سے انخلا، حملے روکنا امریکہ کےساتھ عبوری معاہدے کا لازمی حصہ ، امریکی جارحیت آبنائے ہر مز کی مکمل بحالی میں رکاوٹ ،خلیجی ممالک بیرونی مداخلت کے بغیر سکیورٹی فریم ورک تشکیل دیں۔
عراقی وزیر خارجہ فواد حسین کےساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا آبنائے ہرمز آئندہ 30روز تک مکمل طور پر ایران کی نگرانی میں رہے گی،خلیج میں بحری آمدورفت کی بحالی میں کسی بھی دوسرے فریق کی مداخلت معاملات کو مزید پیچیدہ بنائے گی، جنگ پورے خطے کےلئے نقصان دہ ہے، خطے کو محفوظ رکھنے کےلئے تمام ممالک کو کام کرنا ہوگا،اسرائیل کو لبنان کے قبضے والے علاقوں سے نکل جانا چاہیے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا حملے ظاہر کرتے امریکہ اپنے وعدوں کو اہمیت نہیں دیتا،حملے مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ جنگ بندی کی خلاف ورزی ہیں،وعدہ خلافی امریکی حکومت کی فطرت میں شامل ، ایران اپنی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا ہرقیمت پر دفاع کرے گا، امریکہ کی کسی بھی جارحیت کو بھرپور جواب دیا جائے گا۔
کشید گی میں شدت،امریکہ،ایران کے ایک دوسرے پر بھرپور حملے،دھمکیاں


















