پیداواری لاگت بڑھنے سے مقامی صنعتیں شدید متاثر ہورہی ہیں ،صنعتکاروں اور تاجروں کی دہائی

لاہور (نعیم جاوید) وفاقی بجٹ 2026-27ءکے بعد لاہور کی تاجر و صنعتی برادری پر نئے ٹیکس اقدامات، توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات، مالیاتی لاگت اور ٹیکس قوانین پر عملدرآمد کی سخت شرائط کے باعث کاروباری سرگرمیوں پر نمایاں دباو¿ بڑھ گیا ہے۔ صنعتکاروں اور تاجروں کا کہنا ہے کہ خام مال، بجلی، گیس، ٹرانسپورٹ، بینک فنانسنگ اور ٹیکس کمپلائنس کے اخراجات میں مجموعی طور پر 10 سے 20 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے جس کے باعث پیداواری لاگت بڑھنے سے مقامی صنعت کی مسابقت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداروں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں زیادہ تر بوجھ پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والے کاروباری طبقے پر ڈالا گیا ہے، جبکہ معیشت کی پائیدار ترقی کیلئے ضروری ہے کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے اور غیر دستاویزی معیشت کو ٹیکس نظام کا حصہ بنایا جائے کاروباری تنظیموں کے مطابق بجٹ کے بعد بجلی اور گیس کے بلند نرخ، بینکوں سے قرض لینے کی بڑھتی ہوئی لاگت، مختلف شعبوں پر ودہولڈنگ ٹیکس، ڈیجیٹل انوائسنگ اور دیگر ٹیکس قوانین پر عمل درآمد کیلئے اضافی انتظامی اخراجات نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان اخراجات کا اثر اشیائے ضروریہ سمیت مختلف مصنوعات کی قیمتوں پر بھی پڑ رہا ہے لاہور کی صنعتی ایسوسی ایشنز کا موقف ہے کہ پیداواری لاگت میں اضافے سے نئی سرمایہ کاری سست پڑ رہی ہے جبکہ کئی چھوٹے صنعتی یونٹس اپنی پیداواری صلاحیت کم کرنے پر مجبور ہیں۔ برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ توانائی اور مالیاتی اخراجات میں اضافے سے عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت کمزور ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے حکومت کو پیش کی گئی اپنی سفارشات میں مطالبہ کیا ہے کہ بجلی اور گیس کے نرخ کم کیے جائیں، سپر ٹیکس اور دیگر اضافی ٹیکسوں میں مرحلہ وار کمی کی جائے، برآمدی شعبے کے سیلز ٹیکس ریفنڈز فوری ادا کیے جائیں، ودہولڈنگ ٹیکس کے نظام کو آسان بنایا جائے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ٹیکس نظام کو کاروبار دوست بنایا جائے تاکہ رضاکارانہ ٹیکس ادائیگی کی حوصلہ افزائی ہو لاہورچیمبر کے مطابق حکومت اگر صنعت و تجارت کو ریلیف فراہم کرے، کاروبار کرنے کی لاگت کم کرے اور پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھے تو سرمایہ کاری، برآمدات اور روزگار کے مواقع میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ تاجر برادری نے اس امید کا اظہار بھی کیا ہے کہ حکومت آئندہ مالی پالیسیوں میں نجی شعبے کی تجاویز کو شامل کرتے ہوئے ایسے اقدامات کرے گی جن سے کاروباری ماحول بہتر اور ملکی معیشت مزید مستحکم ہوسکے۔