ایران پر طاقت و پابندیوں کے استعمال کےخلاف، ابراہام معاہدے کا حصہ نہیں بنیںگے:پاکستان

اسلام آباد (بیورو رپورٹ) ترجمان وزارت خارجہ نے کہا ہے پاکستان کسی بھی ابراہام معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا، پاکستان کا ابراہام معاہدے سے کوئی تعلق نہیں ، ایران پر طاقت اور پابندیوں کے استعمال کےخلاف ہیں،وزارت خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا پاکستان انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس میں شامل نہیں ہوگا، بورڈ آف پیس اور سٹیبلائیزشن فورس کا آپس میں کوئی تعلق نہیں، پاکستان بورڈ آف پیس کا حصہ مشترکہ حکومتی رولز کے مطابق بنا ہے،طاقت کے استعمال، اقتصادی پابندیوں کے حق میں نہیں،اقوام متحدہ کی کوششیں اسرائیلی جارحیت روکنے میں ناکام رہیں، یورپی یونین کےساتھ رابطے میں ہیں،طالبان حکومت کے دعووں کے برعکس،افغان شہری پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث، قابل اعتماد شواہد موجود، تمام مشکلات کے باوجود سفارتی روابط برقرار ہیں،امریکی ویزا پابندیوں کے خاتمے پر بات چیت اسلام آباد اور واشنگٹن میں جاری ، امید ہے جلد ویزا پابندیوں کی فہرست سے نکال دیا جائےگا، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سزا داخلی معاملہ،کیس میں جج مجوکہ کے ایران سے متعلق ریمارکس ذاتی رائے ہے،دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایران پر جنگ کے بادل منڈلانے کے حوالے سے کہا پاکستان ہمیشہ پر امن طریقے سے مسائل کے حل کی بات کرتا ہے، ہم طاقت کے استعمال اور اقتصادی پابندیوں کے حق میں نہیں، امید کرتے ہیں امن بحال ہو گا، بھارت اور یورپ کے درمیان تجارتی معاہدے کے حوالے سے سوال کے جواب میں طاہر حسین اندرابی نے کہا پاکستان اور یورپ کے درمیان اچھے تعلقات ہیں، پاکستان اور یورپ کے درمیان تجارتی حجم 12 ارب یورو سے زیادہ ہے، بھارت کے یورپ کےساتھ معاہدات کے حوالے سے بات چیت کی گئی ہے، صدر زرداری نے یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کی، اجلاس میں ابوظہبی کے سپریم کونسل برائے مالی و اقتصادی امور نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے اور جاری منصوبوں کا جائزہ لینے پر زور دیا، دونوں ممالک نے پرچم بردار منصوبوں کے ذریعے سرمایہ کاری بڑھانے اور تجارتی تعلقات وسیع کرنے کےلئے مشترکہ اقدامات کرنے پر اتفاق کیا، مشترکہ کوششوں سے مسائل جلد حل کیے جائیں گے، اس ہفتے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایران اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فونک بات چیت کی اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، اسی دوران گھانا کے ساتھ وفود کی سطح پر دوطرفہ تعلقات پر بھی بات چیت ہوئی، صدر زرداری کا یہ دورہ سرمایہ کاری، تجارتی اور اقتصادی تعلقات کے فروغ اور عوامی رابطوں کے شعبے میں تعاون بڑھانے کےلئے اہم سنگ میل ہے،ترجمان کے مطابق رواں ہفتے وزیراعظم نے ورلڈ اکنامک فورم ڈیووس میں شرکت کی، ایونٹ کے دوران وزیراعظم نے عالمی سربراہان سے ملاقاتیں کیں، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی اس دورے میں وزیراعظم کے ساتھ تھے، ڈیووس سے واپسی پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا، جس میں ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی اتصالات کی پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے بات چیت کی گئی،رواںہفتے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے دو مرتبہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں ایران اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، طاہر حسین اندرابی نے امریکہ کی جانب سے اپنے شہریوں کو پاکستان کے سفر کےلئے جاری ہونے والی ٹریول ایڈوائزری کے حوالے سے کہا پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات اچھے ہیں، امریکہ نے بعض پہلے سے جاری ٹریول ایڈوائزریز واپس بھی لے لیں اور دونوں ملکوں کے تعلقات معمول کے مطابق ہیں،قزاقستان کے صدر جلد پاکستان کا دورہ کریں گے، تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی، دونوں ملکوں کے درمیان ریلوے منصوبے پر فی الحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، مجوزہ مفاہمتی یاداشتوں کی تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔