گرین لینڈ ہاﺅسنگ سوسائٹی مالکان کی جعلسازی ،قواعد و ضوابط کی پامالی

لاہور (میاں ذیشان) گرین لینڈ ہاﺅسنگ سوسائٹی مالکان کی جعلسازی اور قواعد و ضوابط کی پامالی، لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے افسران اور ریونیو ملازمین سے ملی بھگت کرتے ہوئے رفاہ عامہ، روڈ نیٹ ورک اور یوٹیلیٹی انفراسٹرکچر کیلئے مختص رقبہ میںکمی کرتے ہوئے شہریوں کو فروخت کر دیا گیا ہے۔ ایل ڈی اے میں پارکس، پبلک بلڈنگ ایل ڈی اے، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پلاٹ، قبرستان، سڑکیں، پارکنگ اور راستہ جات کیلئے جمع کروائی جانیوالی ٹرانسفر ڈیڈ کا رقبہ ریونیو ریکارڈ میں درج انتقال سے مطابقت نہ رکھتا ہے۔ گزشتہ دو سال قبل ریونیو ملازمین کی طرف سے جاریکردہ رپورٹ میں تمام حقائق کے اندراج کے باوجود لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے افسران بااثر سوسائٹی مالکان کے خلاف کارروائی اور عوامی مفادات کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔ تفصیلات کے مطابق گرین لینڈ ہاﺅسنگ سوسائٹی کے مالکان نے فراڈ، جعلسازی اور دھوکہ دہی سے سرکاری افسران سے ملی بھگت کرتے ہوئے رفاعی عامہ، روڈ نیٹ ورک اور یوٹیلی انفراسڑکچر کے مختص رقبہ میں کمی کرتے ہوئے سرکاری زمین بھی شہریوں کو فروخت کر دی ہے۔ ایل ڈی اے میں جمع کروائی جانیوالی ٹرانسفر ڈیڈ کے مطابق پارک کیلئے 9.33 کنال، پبلک بلڈنگ برائے ایل ڈی اے کیلئے 1.32 کنال، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کیلئے 0.50 کنال، قبرستان کےلئے 2.71 کنال اور سڑکوں، پارکنگ اور راستہ جات کیلئے 47.18 کنال جبکہ مجموعی طور پر 61.04 کنال رقبہ کا ریونیو ریکارڈ میں انتقال بحق لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کیا جانا لازم ہے جبکہ مذکورہ ٹرانسفر ڈیڈ اور ریونیو ریکارڈ میں موجود انتقال میں رقبہ مطابقت نہ رکھتا ہے۔ گزشتہ دو سال قبل موضع کوٹ دھونی چند کے حلقہ پٹواری کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں ان بے ضابطگیوں اور رقبہ میںواضح فرق کی نشاندہی کی گئی تھی کہ ریونیو ریکارڈ میں درج ہونیوالے انتقال نمبر 3630 بیع منجانب منظور حسین وغیرہ بحق ایل ڈی اے رقبہ تعدادی 41 کنال 42 مربع فٹ مورخہ 25-05-2023 کو منظور ہوا ہے۔ جس سے سنگین نوعیت کی جعلسازی اور دستاویزات میں ردوبدل کا شبہ تقویت پکڑ رہا ہے جبکہ پرائیویٹ ہاﺅسنگ سوسائٹی رولز 2014 کے تحت پارکس، پبلک بلڈنگز، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، قبرستان، سڑکوں، پارکنگ اور دیگر راستہ جات کیلئے مختص رقبہ فروخت نہیں کیا جا سکتا ہے۔ مذکورہ قواعد کےمطابق کم از کم 16 فیصد رقبہ رفاعی عامہ اور تقریباً 30 فیصد روڈ نیٹ ورک و یوٹیلٹی انفراسٹرکچر کیلئے مختص کرنا لازم ہے،مبینہ طور پر اس تناسب میں غیر قانونی کمی کر کے شہریوں کو پلاٹس فروخت کئے گئے، جس سے نہ صرف ماسٹر پلان متاثر ہوا بلکہ مستقبل میں بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی مشکوک ہو گئی ہے۔ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارتی کے شعبہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کے افسران بااثر سوسائٹی مالکان کے خلاف مو?ثر کارروائی کرنے میں ناکام رہے، جس سے ادارہ جاتی غفلت یا مبینہ ملی بھگت کے سوالات جنم لے رہے ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر رفاعی عامہ، سڑکوں اور یوٹیلٹی انفراسٹرکچر کیلئے مختص اراضی بھی فروخت ہوتی رہی تو رہائشی منصوبے محض کنکریٹ کے بے ہنگم جنگل بن کر رہ جائیں گے اور عوام کو پارکس، تعلیمی اداروں، قبرستان اور سیوریج جیسے بنیادی حقوق سے بھی محروم ہونا پڑے گا، لہٰذا معاملے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف فوری قانونی کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے۔

لاہور (سپیشل رپورٹر) لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے منسلک ماہرین قانونی نے واضح کیا ہے کہ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی پرائیویٹ ہاﺅسنگ سکیم رولز 2014 کے تحت کسی بھی منظور شدہ سکیم میں لے آﺅٹ پلان، رفاعی عامہ کے رقبہ، روڈ نیٹ ورک، گرین ایریاز اور یوٹیلیٹی انفراسٹرکچر میں ردوبدل کرنا سنگین خلاف ورزی تصور ہوتا ہے۔ قواعد کے مطابق اتھارٹی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ اگر کوئی ڈویلپر منظور شدہ پلان سے انحراف کرے، عوامی فلاح کیلئے مختص اراضی فروخت کرے یا غلط بیانی و جعلسازی کرے تو اس کی سکیم کی منظوری معطل یا منسوخ کی جا سکتی ہے، بینک گارنٹی ضبط کی جا سکتی ہے اور مزید ترقیاتی کام روک دیا جاتا ہے۔ اسی طرح لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایکٹ 1975 کے سیکشن 33، 34 اور 36 کے تحت اتھارٹی کو غیر قانونی ترقیاتی کام مسمار کرنے، اخراجات متعلقہ مالک سے وصول کرنے، جرمانہ عائد کرنے اور فوجداری کارروائی شروع کرنے کا اختیار حاصل ہے، جس میں قید اور یومیہ جرمانہ بھی شامل ہو سکتا ہے۔ اگر سوسائٹی مالکان دانستہ طور پر رفاعی عامہ کا رقبہ فروخت کریں یا ٹرانسفر ڈیڈ اور ریونیو ریکارڈ میں تضاد پایا جائے تو یہ نہ صرف انتظامی خلاف ورزی بلکہ قابل تعزیر جرم کے زمرے میں بھی آ سکتا ہے۔ قواعد یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ خلاف ورزی کی صورت میں اتھارٹی ترقیاتی اخراجات ازخود مکمل کرا کے لاگت بمعہ جرمانہ ریکور کر سکتی ہے اور ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج کرا سکتی ہے۔

لاہور (سپیشل رپورٹر) لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے شعبہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کے زون 1 کی ڈائریکٹر بشریٰ خالد کا کہنا ہے کہ میں سوسائٹی کے خفیہ دورہ کے لئے ڈپٹی ڈائریکٹر عمر مجید اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر عائشہ غیاث کو ہدایات جاری کر دی ہے کہ وہ جلد از جلد ہاﺅسنگ سوسائٹی کا دورہ کریں اور مذکورہ سوسائٹی میں ہونیوالی غیر قانونی سرگرمیوں کی تحریری رپورٹ مرتب کر کے پیش کریں۔ ڈپٹی ڈائریکٹر عمر مجید کو بار ہا کالز اور میسج کئے گئے کہ خاتون ڈائریکٹر کی ہدایات پر سوسائٹی کے حوالے سے کوئی دورہ کر کے رپورٹ مرتب کی گئی ہے لیکن ان کی طرف سے کوئی موقف پیش نہ کیا گیا ہے جبکہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر عائشہ غیاث نے بتایا کہ ڈپٹی ڈائریکٹر عمر مجید کی مصروفیات بہت زیادہ ہیں جیسے ہی وہ سوسائٹی کے وزٹ کے حوالے سے شیڈول طے کریں گے فی الفور وزٹ کر کے رپورٹ حکام بالا کو ارسال کر دی جائے گی۔ اور اگر کوئی غیر قانونی سرگرمیاں نظر آئیں تو سوسائٹی مالکان کے خلاف قانونی کے مطابق کارروائی عمل میں لانے کی سفارش بھی کی جائے گی۔

لاہور (سپیشل رپورٹر) اس حوالے سے گرین لینڈ ہاﺅسنگ سوسائٹی مالکان چوہدری منظور احمد اور اصغر علی سے واٹس پر رابطہ کیا گیا ہے کہ رفاہ عامہ، روڈ نیٹ ورک اور انفراسٹرکچر کی مد میںلاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے بحق کیا جانیوالا رقبہ کو غیر قانونی طور پر شہریوں کو فروخت کر کے مکانات کی تعمیر کروانے پر اپنا موقف واضح کرنے کے لئے کہا گیا ہے لیکن ان کی طرف سے کوئی وضاحت یا موقف پیش نہ کیا گیا ہے۔ گرین لینڈ ہاﺅسنگ سوسائٹی مالکان میں سے کوئی اپنا موقف پیش کرنا چاہیں تو ادارہ ہذا میں ان کے موقف کو من و عن شائع کیا جائیگا۔