لاہور: (وقائع نگار)سابق جج سپریم کورٹ اطہر من اللہ نے کہا ہے پاکستان جمہوری ملک ، برابری کی بنیاد پر حقوق کی فراہمی ہی مضبوط ریاست کی بنیاد ہے۔
سہ روزہ تھنک فیسٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے جسٹس (ر) اطہر من اللہ نے کہامجھے خوشی ہے جانوروں کے حقوق پر فیصلہ دے چکا ہوں، جانوروں، انسانوں کےساتھ زیادتی میں خاص فرق نہیں ،دونوں معاملے ایک ہی سوچ سے آتے ہیں ایسی سوچ معاشرے میں ظلم پھیلاتی ہے، بنیادی حقوق معاشرے میں حکومت کی جانب سے لاگو کرائے جاتے ہیں، معاشرے کی طاقت برابری میں ہوتی ہے۔
سابق جج سپریم کورٹ نے کہا مسئلہ تب پیدا ہوتا جب جمہوریت نہیں ہوتی، ملک اتھاریٹیرین سوچ سے چلتے ہیں، پاکستان جمہوری ملک ،آئین موجود ہے، بنیادی حقوق کاغذ پر ہیں،کیا کاغذی باتیں عملی زندگی میں کوئی حصہ رکھتی ہیں؟ اتھاریٹیرین سسٹم سے سب سے زیادہ نقصان عام و غریب آدمی کا ہوتا ہے، اتھاریٹیرین نظام مضبوط ملک نہیں کمزور ملک کی نشانی ہوتی ہے،خود سے سوال کرنا ہو گا کیا جمہوری ملک یا اتھاریٹیرین نظام میں ہیں؟ کاوان نامی ہاتھی کے حق میں کئے گئے فیصلے میں بہت سی باتیں نہیں لکھیں کیونکہ شرمندگی کا باعث بنتیں۔
پاکستان جمہوری ملک ،آئین موجود ،بنیادی حقوق کاغذ پر ہیں،اطہر من اللہ



















