د ہشت گردی کی پشت پناہی واضح، افغان طالبان نے متاثرہ علاقوں تک میڈیا رسائی روکدی

اسلام آباد (بیورو رپورٹ) افغان طالبان رجیم کی دہشت گردوں کی پشت پناہی واضح ہوگئی، طالبان نے پاکستانی فضائی کارروائی سے متاثرہ علاقوں تک میڈیا رسائی روک دی،پاکستان نے مصدقہ اور قابل اعتماد انٹیلی جنس اطلاعات پر افغانستان میں دہشت گردوں کے مرکزی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، تباہ شدہ ٹھکانوں پر میڈیا کی پابندی سے افغان طالبان رجیم کی منافقانہ روش اور دہشتگردوں کی پشت پناہی بے نقاب ہوئی،دی ساوتھ ایشیا ٹائمز کے مطابق افغانستان نے پاکستانی فضائی کارروائی کے متاثرہ مقامات پر افغان میڈیا اور شہریوں کی رسائی روک دی، ریاستی زیر انتظام افغان میڈیا نے صرف ضلع بہسود کے ایک ملبے کی فوٹیج دکھائی، باقی تباہ شدہ ٹھکانوں کی رپورٹ جاری نہیں کی گئی،دی ساوتھ ایشیا ٹائمز کے مطابق پکتیکا، خوست اور ننگرہار کے رہائشیوں نے بتایا فضائی حملوں کے فوری بعد طالبان فورسز نے کئی علاقوں کو گھیر لیا،مقامی شہریوں کے مطابق دہشت گرد کئی سالوں سے یہاں اپنے خاندان کے ساتھ رہائش پذیر ہیں، خوگانی، ننگرہار، خوست اور دیگر مقامات پر صحافیوں کے جانے کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں، پابندیوں نے ہلاکتوں کی اصل تعداد اور کارروائیوں کے مکمل اثرات پر سوالات کھڑے کر دئیے،ماہرین کے مطابق آزاد میڈیا کو رسائی نہ دینا اس تاثر کو تقویت دیتا ہے طالبان رجیم زمینی حقائق کو چھپانے میں مصروف ہے، مستند شواہد سے واضح ہے افغانستان فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان سمیت عالمی دہشتگرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ ہے۔