اسلام آباد ( بیورورپورٹ)ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے کہا ہے کہ ایران اور پاکستان کے مابین تجارتی حجم کو3 ارب ڈالر سے بڑھا کر 10 ارب ڈالر تک لے جایا جائےگا۔ان خیالات کا اظہار نہوں نے نور خان ایئر بیس پرایران اور پاکستان کے میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے کیا۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ ایرانی وزیر داخلہ نے بتایا کہ اس اہم دورے میں ان کے ہمراہ ایران کی وزارت داخلہ، وزارتِ پٹرولیم، وزارتِ زراعت اور وزارتِ شہری ترقی کے اعلی حکام پر مشتمل وفد پاکستان آیا ہے۔ دورے کا بنیادی مقصد ان تمام شعبوں میں دوطرفہ اسٹریٹجک اور اقتصادی تعلقات کو وسعت دینا ہے۔ میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے ایرانی وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ تجارتی حجم کےہدف کو حاصل کرنے کیلئے اوسطا روزانہ کم از کم 2,000 ٹرکوں یا کینٹینرزکی سرحد پار آمد و رفت ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فی الوقت اس ہدف کا صرف 20 فیصد ہی پورا ہو پا رہا ہے، جس میں اضافے کیلئے سرحد کے دونوں اطراف ضروری بنیادی ڈھانچہ اور سہولیات فراہم کرنا ناگزیر ہے، یہ مسئلہ موجودہ مذاکرات کے ایجنڈے میں سرِفہرست ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تجارتی امور کے ساتھ ساتھ موجودہ علاقائی صورتحال اور سکیورٹی کے بدلتے ہوئے تناظر پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی ہم منصب کا گرمجوشی سے استقبال کرتے ہوئے انہیں اپنا بھائی قرار دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایرانی وفد کا یہ دورہ پاکستان اور ایران کے برادرانہ تعلقات میں مزید مضبوطی لائے گا اور اس کے دونوں ممالک کیلئے انتہائی مثبت اور بہترین نتائج برآمد ہوں گے۔قبل ازیں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی کا پریڈ گراو¿نڈ آمد پر پرتپاک استقبال کیا گیا، اسلام آباد پولیس کے خصوصی دستے نے ایرانی وزیر داخلہ کو سلامی پیش کی۔ اس سے قبل ایران کے وزیر داخلہ سکندر مومنی نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران پاکستان مونومنٹ کا دورہ کیا، جہاں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ان کا استقبال کیا۔اس موقع پر فیڈرل کانسٹیبلری کے چاق و چوبند دستے نے ایرانی وزیر داخلہ کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔
پاک، ایران تجارتی حجم 10ارب ڈالر تک بڑھا یا جائے گا، ایرانی وزیر داخلہ



















