اسلام آباد:(بیورورپورٹ) قومی اقتصادی کونسل نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دے دی۔
وزیراعظم کی زیر صدارت ہونےوالے اجلاس میں وفاقی وزرا،وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی،رواں مالی سال کے ترقیاتی بجٹ کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا۔
شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا مشکلات کے باوجود کوشش کی آئی ایم ایف پروگرام پر عمل پیرا ہوں ،روزگار کے مواقع پیدا کرنا، برآمدات میں اضافہ اور مجموعی معاشی بہتری سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، خطے کی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھیں ،چیلنج کے باوجود حکومت نے عوام کو تیل قیمتوں کی مد میں 128 ارب کا ریلیف فراہم کیا، دنیا کے کئی ممالک میںپمپوں پر لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں تاہم بروقت اقدامات کے باعث پاکستان میں پٹرول کی فراہمی برقرار رہی ،عوام کو مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
وزیراعظم نے کہا صوبوں نے بھرپور تعاون کیا، شکر گزار ہیں، عوامی توقعات پر پورا اترنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ،آئندہ بجٹ پرصوبوں کےساتھ کئی ہفتوں سے مشاورت جاری ہے،پوری قوم، خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے عوام دہشتگردی کےخلاف قربانیاں دے رہے ،سکیورٹی فورسز کی خدمات قابل تحسین ہیں، دہشتگردی کے ناسور کا متحد ہو کر خاتمہ کرنا ہوگا ،باہمی اتحاد و اتفاق سے ہی چیلنج پر قابو پایا جا سکتا ہے،آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر نے پاکستان کی مخلصانہ معاشی کوششوں کو سراہا۔
شہبازشریف نے کہامجموعی قومی پیداوار میں اضافے کیلئے معیشت کے مختلف شعبوں کو مراعات دینا ہوں گی تاکہ ترقی کا عمل تیز کیا جا سکے اور پائیدار معاشی استحکام حاصل ہو،زیادہ سے زیادہ وسائل پیدا کرنا اور دفاع کےلئے وسائل کی فراہمی ترجیح ہے، دہشتگردی کے چیلنج سے نمٹنے کےلئے وسائل درکار ہیں، ٹیم ورک کے طور پر ملک کے بہترین مفاد میں فیصلے کیے
قومی اقتصادی کونسل نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دے دی


















