چھوٹے ہوٹلوں پر مسلسل سرچ آپریشنز، قانون کا اطلاق صرف کمزور طبقے پر کیوں؟ مالکان، مہمانوں کی دہائی

لاہور (خصوصی رپورٹ) لاہور کے سٹی ڈویژن میں واقع چھوٹے و متوسط درجے کے ہوٹل مالکان اور مہمانوں نے پولیس کے سرچ آپریشنز کے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا آیا قانون کا اطلاق صرف چھوٹے ہوٹلوں تک محدود ہو کر رہ گیا یا پھر یکساں نفاذ تمام اداروں و کاروباری مراکز پر بھی کیا جاتا ہے،متاثرہ ہوٹل مالکان کے مطابق سٹی ڈویژن کے مختلف علاقوں میں پولیس جب چاہے اور جس وقت چاہے سرچ آپریشن کے نام پر ہوٹلوں میں داخل ہو جاتی ہے،نہ صرف مہمانوں کی شناخت و ریکارڈ چیک کیا جاتا بلکہ ذاتی سامان کی بھی تفصیلی تلاشی لی جاتی ہے۔ ہوٹل مالکان کا کہنا ہے تاثر دیا جاتا جیسے ہوٹل کسی غیر قانونی سرگرمی کا مرکز ہوں جبکہ حقیقت میں بیشتر ہوٹل قانون کے مطابق مہمانوں کا مکمل ریکارڈ محفوظ رکھتے ہیں،مہمانوں ،ہوٹل انتظامیہ کے مطابق سرچ آپریشن کے دوران بعض پولیس اہلکار ہوٹل کمروں کے دروازوں پر زور زور سے لاتیں اور ٹھڈے مارتے ہیں جس سے نہ صرف مہمان خوف و ہراس کا شکار ہوتے ہیں بلکہ پرائیویسی بھی متاثر ہوتی ہے، کئی مہمانوں نے عمل پر سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا جب مکمل شناختی ریکارڈ، موبائل نمبر و دیگر معلومات پہلے ہی ہوٹل انتظامیہ کے پاس موجود اور باقاعدہ اندراج بھی کیا جا چکا ہے تو پھر کمروں کے دروازوں پردھاوا بولنے کا قانونی جواز کیا ہے؟ہوٹل مالکان نے کہا ماضی میں سرچ آپریشن کسی مخصوص اطلاع، مشکوک سرگرمی یا خفیہ معلومات کی بنیاد پر کئے جاتے رہے اور صرف متعلقہ کمروں یا افراد کو چیک کیا جاتا تھا لیکن اب صورتحال یہ ہے اگر کسی ہوٹل میں 50کمرے موجود ہیں تو تمام 50کمروں کی چیکنگ کی جاتی ہے، چاہے کسی کے خلاف کوئی شکایت یا اطلاع موجود نہ ہو،طرز عمل سکیورٹی اقدامات سے زیادہ عمومی ہراسانی کا تاثر دیتا ہے،دوسری جانب کرایہ داری ایکٹ کے نفاذ پر بھی سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، ہوٹل مالکان کا موقف ہے قانون میں مہمان کی آمد کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر اندراج ، اطلاع کی گنجائش موجود ہے تاہم بعض اوقات چند منٹ یا آدھے گھنٹے کی تاخیر کو بنیاد بنا کر فوری مقدمات درج کر دئیے جاتے ہیں،قانون کی روح کو مدنظر رکھنے کی بجائے سخت ترین تشریح کرتے ہوئے کاروباری طبقے کو غیر ضروری دباو¿ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،ہوٹل انڈسٹری سے وابستہ افراد یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں۔ اگر سرچ آپریشن اور سکیورٹی چیکنگ واقعی ناگزیر ہیں تو پھر لاہور کے بڑے فور و فائیو سٹار ہوٹلوں میں اسی نوعیت کی کارروائیاں کیوں دکھائی نہیں دیتیں؟ کیا وہاں مقیم افراد کی جانچ پڑتال کی ضرورت نہیں یا قانون کے نفاذ کےلئے الگ الگ پیمانے مقرر ہیں؟ متاثرہ حلقوں نے حکومت پنجاب اور اعلیٰ پولیس حکام سے مطالبہ کیا کہ سٹی ڈویژن میں ہونے والے سرچ آپریشنز کے طریقہ کار کا جائزہ لیا جائے، کرایہ داری ایکٹ کے مبینہ غلط استعمال کی تحقیقات کی جائیں اور یقینی بنایا جائے قانون کا نفاذ بلاامتیاز، شفاف اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا احترام کرتے ہوئے کیا جائے،کاروباری برادری نے کہا کہ سکیورٹی کے نام پر ایسا ماحول پیدا نہیں ہونا چاہیے جس سے شہری خود کو مجرم تصور کرنے لگیں، قانون کا اصل مقصد تحفظ فراہم کرنا ہے، خوف پیدا کرنا نہیں۔