اسلام آباد (مشرق نیوز) بھارت کے سندھ طاس معاہدہ سے متعلق اقدامات سے جنوبی ایشیا کے سٹرٹیجک استحکام کو شدید خطرہ لاحق ہے، پاکستان کی سیاسی قیادت بزدل بھارت کی آبی جارحیت کے خلاف یک زبان ہے۔
چیئر مین واپڈا کے مطابق مغربی دریاوں پر نئے منصوبوں سے بھارت خطے میں آبی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے، دریائے چناب کے بالائی بہاو میں بھارت کی ممکنہ مداخلت صریحاً قانونی خلاف ورزی ہے۔ سندھ طاس معاہدہ پاکستان کی آبی، غذائی، توانائی اور قومی سلامتی کا معاملہ ہے یکطرفہ اقدامات کے بجائے سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد ضروری ہے۔
وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے بھارت کو شرمندگی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا، سندھ طاس معاہدے کے تحت پانی پاکستان کا ناقابل تنسیخ حق ہے۔ انکا کہنا تھا کہ بھارت نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی، بھارت کے اقدام کا نہ تو کوئی اخلاقی جواز ہے نہ قانونی ہی حیثیت۔
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے دوٹوک موقف اپناتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہر قیمت پر سندھ طاس معاہدے کا دفاع کرے گا، بھارت کی یکطرفہ کارروائی اور دباو کی حکمت عملی قابل قبول نہیں، سندھ طاس معاہدہ پاکستان کی آبی، غذائی، توانائی اور قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔
سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان نے ایکس پر بیان میں کہا کہ پاکستان اپنے جائز آبی حقوق کے تحفظ کیلئے پ±رعزم ہے، دریائے چناب کے بالائی بہاو میں بھارت کی ممکنہ مداخلت صریحاً قانونی خلاف ورزی ہے۔ پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چوہدری کا کہنا تھا کہ آبی تحفظ پاکستان کیلئے قومی سلامتی کا ایم ستون ہے، یکطرفہ اقدامات کے بجائے سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد ضروری ہے، بھارت مشترکہ دریاوں پر شفاف حکمرانی کے برعکس راستہ اختیار کر رہا ہے۔
ڈاکٹر شرمیلا فاروقی نے بزدل بھارت کے اقدامات پر ایکس پر بیان میں کہا کہ بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنی چاہیے، دھونس نہیں چل سکتی، سندھ طاس معاہدے کا احترام خطے کے امن کی ضمانت ہے، مشترکہ دریاوں پر یکطرفہ اقدامات عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ میر ضیا اللہ لانگو بلوچ کا بھارتی ہٹ دھرمی پر موقف اپناتے ہوئے کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، پانی کے معاملے پر پاکستان کا موقف عالمی سطح پر اجاگر ہونا چاہیے۔
سینیٹر پلوشہ خان نے آبی دہشت گرد بھارت کے اقدامات پر موقف اپنایا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، بھارت پانی کو ہتھیار بنانے سے باز رہے، پاکستان اپنے جائز آبی حق کے تحفظ کیلئے ہر فورم پر آواز اٹھائے گا۔
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ بی جے پی حکومت سندھ طاس معاہدہ اور پانی کی تقسیم پر عالمی قوانین نہیں توڑ سکتی، بھارت کو غلط فہمی دور کر لینی چاہیے، پاکستان اپنے آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، پاکستان کی زراعت اور معیشت کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش ناکام بنائیں گے۔
بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ پانی کو ہتھیار بنانا کروڑوں انسانوں اور خطے کے امن کیلئے خطرہ ہے، بھارت معاہدے کی خلاف ورزی اور آبی معلومات روکنے سے باز رہے، سندھ طاس معاہدہ پاکستان کی غذائی، توانائی اور معاشی سلامتی کی بنیاد ہے۔
بلال اظہر کیانی نے موقف اپنایا کہ پانی کو سیاسی ہتھیار نہیں بنایا جا سکتا، عالمی معاہدوں کو یکطرفہ طور پر معطل کرنا عالمی نظام کو کمزور کرتا ہے، سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے آبی تحفظ کی ضمانت ہے۔ ناز بلوچ کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے جائز آبی حقوق کے تحفظ کے لئے پرعزم ہے، مشترکہ دریاوں پر عالمی وعدوں اور شفافیت کا احترام ناگزیر ہے، بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی مکمل پاسداری کرنا ہوگی۔
پاکستان کی سیاسی قیادت بزدل بھارت کی آبی جارحیت کیخلاف یک زبان



















