تہران ( مشرق نیوز) ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران حالیہ مفاہمتی یاد داشت پر دستخط کے باوجود امریکا سے اختلافات رکھتا ہے اور یاد داشت پر عمل درآمد مشکل ہے لیکن قابل رسائی ہے۔ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے تہران میں موجود حماس کی لیڈرشپ کونسل کے سربراہ محمد درویش سے ملاقات کے دوران کہا کہ ہمارا امریکا کے ساتھ امن نہیں ہے اور ہم اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ایران سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ضرورت پڑنے پر مسلمانوں اور مزاحمتی محاذ کی مدد جاری رکھے گا، اگر ضرورت پڑی تو میزائلوں کے ساتھ اور اگر سیاسی دبا ﺅدرکار ہوا تو مذاکرات کے ذریعے دبا ﺅڈال کر تعاون کریں گے۔امریکا کے ساتھ مذاکرات میں ایرانی وفد کی سربراہی کرنے والے باقر قالیباف نے زور دیا کہ صرف مذاکرات برائے مذاکرات سے بچنے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات اس وقت معطل ہو گئے جب مفاہمتی یادداشت پر دستخط سے ایک دن پہلے اسرائیل نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے ضلع ضاحیہ پر حملے کیے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے امریکا کو بتایا تھا کہ خطے کے ممالک کی سالمیت اور ایران کے اتحادی مزاحمتی گروپس کے خلاف جنگ کے خاتمے کو اس معاہدے کا حصہ ہونا چاہیے اور اسے متن میں شامل کیا گیا اور آج یہ مفاہمتی یادداشت نافذ العمل ہے اور اس پر عمل درآمد مشکل ضرور ہے لیکن ممکن ہے۔باقر قالیباف نے زور دیا کہ میدان جنگ میں حاصل ہونے والی عسکری کامیابیوں کو برقرار اور مستحکم رکھتے ہوئے سفارت کاری اور مذاکرات فوجی تعطل ختم کرنے کے لیے ہونے چاہئیں اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ملک سفارت کاری کے ساتھ ساتھ دفاع کے لیے بھی تیار ہو۔ان کا کہنا تھا کہ مسلم ممالک اس صورت حال میں انتہائی مثر کردار ادا کر سکتے ہیں اور انہوں نے اب یہ سمجھ لیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ تعاون انہیں سلامتی فراہم نہیں کر سکتا۔
امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد مشکل مگر ممکن ہے،باقر قالیباف


















