ایل پی جی کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاو، غیرقانونی منافع خوری عروج پر

لاہور (نعیم جاوید) ملک میں ایل پی جی کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاو، غیر قانونی منافع خوری اور سپلائی چین میں شفافیت کے فقدان کے باعث صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ ریگولیٹری حکام کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے قیمتوں میں استحکام اور غیر قانونی کاروبار کی روک تھام میں مدد ملے گی۔اوگرا حکام کے مطابق پاکستان میں ایل پی جی کی قیمتوں پر کئی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں جن میں مقامی پیداوار، درآمدی لاگت، عالمی مارکیٹ میں پروپین اور بیوٹین کی قیمتوں میں تبدیلی، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر، نقل و حمل کے اخراجات اور موسمی طلب شامل ہیں۔ سردیوں کے موسم میں گھریلو استعمال بڑھنے سے طلب میں اضافہ ہوتا ہے جس کے باعث قیمتیں اوپر چلی جاتی ہیں جبکہ بعض علاقوں میں سپلائی میں رکاوٹ بھی قیمتوں کے عدم استحکام کا سبب بنتی ہے۔اوگرا کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ ایل پی جی سیکٹر میں غیر دستاویزی کاروبار، غیر قانونی ذخیرہ اندوزی اور بعض مقامات پر غیر مجاز فلنگ و ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک بھی قیمتوں میں مصنوعی اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور اوگرا ان مسائل کے حل کیلئے جدید ڈیجیٹل نگرانی کے نظام پر کام کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق ایل پی جی سیکٹر میں ڈیجیٹل ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم متعارف کرانے کا بنیادی مقصد پیداوار سے لے کر صارف تک ایل پی جی کی نقل و حرکت کی مکمل نگرانی کرنا ہے۔ اس نظام کے تحت ایل پی جی پیدا کرنے والی کمپنیوں، درآمد کنندگان، مارکیٹنگ کمپنیوں، ذخیرہ گاہوں، ٹرانسپورٹرز اور ڈسٹری بیوٹرز کا ڈیٹا ایک مرکزی پلیٹ فارم سے منسلک کیا جائیگا۔ ہر کھیپ کی نقل و حرکت کو ڈیجیٹل طور پر ریکارڈ کیا جائیگا جس سے سپلائی چین میں شفافیت آئے گی۔ اوگرا حکام کا کہنا ہے کہ مجوزہ نظام کے تحت ایل پی جی ٹینکرز اور سپلائی یونٹس کی جیو ٹیگنگ اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ بھی ممکن بنائی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی غیر قانونی نقل و حمل یا غیر مجاز فروخت کی فوری نشاندہی کی جا سکے۔ اس اقدام سے ٹیکس چوری، ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی آسان ہو جائیگی۔ توانائی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق پاکستان میں ایل پی جی مارکیٹ کا ایک حصہ ابھی بھی مکمل طور پر دستاویزی نظام میں شامل نہیں، جس کی وجہ سے اصل طلب اور رسد کے اعداد و شمار میں فرق رہتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ڈیجیٹل ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم مو¿ثر انداز میں نافذ کر دیا جائے تو مارکیٹ میں شفافیت بڑھے گی، غیر قانونی سرگرمیوں میں کمی آئے گی اور قیمتوں کے تعین کا عمل زیادہ منظم ہو سکے گاایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں بار بار تبدیلی سے کاروباری منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے جبکہ صارفین کا اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو درآمدی پالیسی، ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں اضافے اور سپلائی چین کی بہتری پر توجہ دینا ہوگی تاکہ قیمتوں میں غیر ضروری اتار چڑھاو¿ کو کم کیا جا سکے اوگرا حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ ڈیجیٹل ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے مکمل نفاذ کے بعد ایل پی جی سیکٹر میں شفافیت، ریگولیٹری نگرانی اور ریونیو وصولی بہتر ہوگی جبکہ صارفین کو بھی مناسب نرخوں پر ایندھن کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا عمل جاری ہے اور مرحلہ وار نفاذ کی حکمت عملی پر کام کیا جا رہا ہے تاکہ نظام کو مو¿ثر اور پائیدار بنایا جا سکے۔