سرینگر (مشرق نیوز) کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے کشمیری مہاجرین کے حقوق غصب کرنے کی کوشش پر لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب سے بھی شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ حریت رہنما میر واعظ عمرفاروق نے کالعدم ایکشن کمیٹی کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان میں مقیم لاکھوں مہاجرین کشمیر کا حق رائے دہی ان کا آئینی اور جمہوری حق ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری مہاجرین کے حقوق جموں و کشمیر کے عوام کے اجتماعی حقوق کا لازمی حصہ ہیں اور یہ مساوی احترام اور تحفظ کے مستحق ہیں، ہماری جدوجہد کی کامیابی جموں وکشمیر کے ہرعلاقے کے باشندوں کے حقوق کی بلا تفریق نمائندگی سے مشروط ہے۔
میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ ایک طبقے کے حقوق کی خاطر دوسرے کے آئینی و جمہوری حقوق کو فراموش نہیں کیا جا سکتا، اجتماعی حقوق کے تحفظ کیلئے مساوات، انصاف اور باہمی احترام ناگزیر ہے۔ حریت رہنما نے زور دیا کہ اس معاملے سے متعلق تمام فریقین مل بیٹھ کر باہمی مشاورت اور افہام و تفہیم کے ذریعے بات چیت کریں اور ایک متوازن، مقبول اور قابل قبول حل تلاش کریں جو سب کیلئے قابل قبول ہو۔
میر واعظ عمر فاروق کا بیان ظاہر کرتا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی عوامی حقوق کی نہیں بلکہ کشمیریوں کے حقوق غصب کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
کالعدم ایکشن کمیٹی کشمیریوں کے حقوق غصب کرنا چاہتی ہے: میر واعظ عمر فاروق


















