بچوں کیخلاف سنگین جرائم پولیس کیلئے بڑا چیلنج، والدین میں شدید تشویش کی لہر

لاہور (مرزا ندیم بیگ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں رواں سال بچوں اور بچیوں کے اغوائ، جنسی زیادتی اور قتل کے واقعات پولیس کیلئے ایک بڑا چیلنج بنے رہے۔ اگرچہ لاہور پولیس کا دعویٰ ہے کہ بیشتر اغواءکے مقدمات میں بچوں کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا اور ملوث ملزمان کو گرفتار کیا گیا، تاہم بچوں کے خلاف سنگین جرائم نے والدین میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق رواں سال شہر بھر میں بچوں اور بچیوں کے اغواءکے سینکڑوں مقدمات درج ہوئے، جن میں اکثریت کم عمر لڑکیوں کی تھی۔ ان مقدمات میں بڑی تعداد گھریلو ناچاقی، پسند کی شادی، رشتہ داروں کے ساتھ جانے یا گھر سے ناراض ہو کر نکلنے کے واقعات پر مشتمل رہی، جبکہ محدود تعداد میں حقیقی اغواءکے کیس بھی سامنے آئے۔اسی عرصے کے دوران بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور زیادتی کے بعد قتل کے متعدد مقدمات بھی درج کیے گئے۔ ان کیسز میں پولیس نے جدید فرانزک، سیف سٹی کیمروں، موبائل فون ڈیٹا اور جیو فینسنگ کی مدد سے تحقیقات آگے بڑھائیں۔ کئی مقدمات میں ملزمان کو گرفتار کرکے چالان عدالتوں میں جمع کرائے جا چکے ہیں جبکہ بعض کیسز کی تفتیش ابھی جاری ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بچوں کے قتل کے مقدمات میں بھی خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں اور زیادہ تر کیسز میں ملزمان کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا گیا۔ حساس مقدمات میں فرانزک سائنس ایجنسی کی رپورٹس، ڈی این اے ٹیسٹ اور پوسٹ مارٹم رپورٹس کو مرکزی شہادت کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔لاہور پولیس کے مطابق بچوں کے اغوائ اور زیادتی کے مقدمات کی تفتیش کے لیے چائلڈ پروٹیکشن یونٹ، انویسٹی گیشن ونگ، سی آئی اے، سیف سٹی اتھارٹی اور فرانزک ماہرین کے درمیان مربوط رابطہ قائم کیا گیا ہے۔ لاپتہ بچوں کی فوری تلاش کے لیے خصوصی الرٹ سسٹم، سی سی ٹی وی فوٹیج، سوشل میڈیا مانیٹرنگ اور جدید ٹیکنالوجی سے بھی فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔پولیس کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ والدین بچوں کو تنہا نہ چھوڑیں، اجنبی افراد سے محتاط رہنے کی تربیت دیں اور کسی بھی مشکوک صورتحال یا گمشدگی کی صورت میں فوری طور پر 15 یا متعلقہ تھانے سے رابطہ کریں تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔ماہرین کے مطابق بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام کے لیے صرف پولیس کارروائی کافی نہیں بلکہ والدین، تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور میڈیا کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ بچوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔