مہنگائی کے باعث خریداروں کی تعداد میں نمایاں کمی ہوچکی ،اکبری منڈی کے تاجروں کی دہائی

لاہور (رپورٹ: نعیم جاوید) اکبری منڈی، جو لاہور کی سب سے بڑی تھوک مارکیٹوں میں شمار ہوتی ہے، آج بھی ہزاروں تاجروں، مزدوروں اور خریداروں کی معاشی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ تاہم تاجروں کا کہنا ہے کہ کاروبار کو درپیش مسائل روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں اور متعلقہ اداروں کی عدم توجہی کے باعث مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تاجروں کے مطابق سب سے بڑا مسئلہ ٹریفک کا ہے۔ دن بھر مال بردار گاڑیوں، رکشوں اور ریڑھیوں کے ہجوم کے باعث سامان کی بروقت ترسیل ممکن نہیں رہتی۔ منڈی کی تنگ گلیوں میں ٹریفک جام معمول بن چکا ہے، جس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیںمشرق سروے کے دوران مختلف دکانداروں، آڑھتیوں اور تھوک فروشوںملک مبےن ، ماجد حسےن ،ملک سجاد، ولی خان،عارف بھٹی، شےخ منظور،اورآصف محمود نے بتایا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران کاروبار میں نمایاں سست روی آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی کے باعث قوت خرید میں کمی ہوئی ہے جس سے مارکیٹ میں خریداروں کی تعداد کم ہو گئی ہے۔ سروے کے دوران تاجروں نے بتایا کہ پارکنگ کی مناسب سہولت نہ ہونے کے باعث خریدار بھی مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ بیرون شہر سے آنے والے تاجروں کو گاڑیاں دور کھڑی کرنا پڑتی ہیں، جس سے وقت اور اخراجات دونوں بڑھ جاتے ہیںتاجروں کا کہنا تھا کہ سیوریج کا ناقص نظام، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، گندگی اور نکاسی آب کے مسائل بھی فوری توجہ چاہتے ہیں۔ بارش کے دوران کئی حصوں میں پانی جمع ہونے سے کاروبار متاثر ہوتا ہے جبکہ اشیائے خورونوش کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ رہتا ہے کاروباری برادری نے شکایت کی کہ بجلی کے نرخ، ٹیکسوں میں اضافہ اور کاروباری لاگت بڑھنے سے منافع میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت تھوک مارکیٹوں کیلئے خصوصی ریلیف پیکیج متعارف کرائے تاکہ کاروبار کو سہارا مل سکے بعض تاجروں نے ذخیرہ اندوزی سے متعلق قوانین کے نفاذ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قانونی کاروبار اور غیر قانونی ذخیرہ اندوزی میں واضح فرق ہونا چاہیے تاکہ جائز تاجروں کو بلاوجہ کارروائیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ سروے میں شامل تاجروں نے حکومت پنجاب، ضلعی انتظامیہ اور بلدیاتی اداروں سے مطالبہ کیا کہ اکبری منڈی میں جدید پارکنگ پلازہ، بہتر ٹریفک مینجمنٹ، سیوریج کی بحالی، صفائی کے مو¿ثر انتظامات، سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور سیکیورٹی کے نظام کو بہتر بنایا جائے تاکہ اس تاریخی تجارتی مرکز کی کاروباری اہمیت مزید مستحکم ہو سکے تاجروں کا کہنا تھا کہ اگر بنیادی سہولیات فراہم کر دی جائیں تو اکبری منڈی نہ صرف ملکی تجارت کو مزید فروغ دے سکتی ہے بلکہ برآمدات سے وابستہ شعبوں کیلئے بھی زیادہ مو¿ثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ملک کی سب سے بڑی اجناس منڈیوں میں شمار ہونے والی اکبری منڈی ان دنوں شدید کاروباری دباو¿ اور متعدد مسائل کی لپیٹ میں ہے۔ روزانہ ہزاروں من اجناس کی خرید و فروخت کا مرکز ہونے کے باوجود یہاں کے تاجر بڑھتے ہوئے اخراجات، حکومتی پالیسیوں، ٹیکسوں کے بوجھ اور بنیادی سہولیات کی کمی پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔