لاہور ڈویژن،اہم مسائل کے باعث چھوٹی صنعتیں متاثر

لاہور (نعیم جاوید) حالیہ دورِ حکومت میں لاہور ڈویژن میں نئی صنعتوں کے قیام اور بند ہونے والے صنعتی یونٹس کی درست تعداد کے حوالے سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے کوئی جامع عوامی اعداد و شمار جاری نہیں کئے۔ ایف بی آر کا بنیادی دائرہ کار ٹیکس رجسٹریشن، ریٹرنز اور محصولات ہے، جبکہ نئی صنعتوں کے قیام اور صنعتی یونٹس کا ریکارڈ زیادہ تر پنجاب کے محکمہ صنعت، پنجاب انڈسٹریل اسٹیٹس ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی اور دیگر متعلقہ اداروں کے پاس ہوتا ہے صنعتی حلقوں کے مطابق لاہور، شیخوپورہ، قصور اور ننکانہ صاحب پر مشتمل لاہور ڈویژن میں گزشتہ چند برسوں کے دوران بعض نئے صنعتی منصوبے اور توسیعی منصوبے شروع ہوئے، تاہم اس کے ساتھ ہی متعدد چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعتی یونٹس بھی بند یا جزوی طور پر غیر فعال ہوئے تاجروں اور صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ صنعتی یونٹس کی بندش کی اہم وجوہات میں بجلی اور گیس کی بلند قیمتیں، خام مال کی مہنگائی، بلند شرح سود، روپے کی قدر میں اتار چڑھاو، ٹیکسوں کا بڑھتا بوجھ، درآمدی پابندیوں کے باعث خام مال کی قلت، برآمدی آرڈرز میں کمی اور پیداواری لاگت میں مسلسل اضافہ شامل ہیں۔ ان عوامل کے باعث کئی چھوٹے کارخانے اپنی پیداوار محدود کرنے یا مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہوئے صنعتی تنظیموں کا موقف ہے کہ اگر توانائی کے نرخوں میں کمی، ٹیکس نظام میں آسانی، سستے قرضوں کی فراہمی اور برآمدات کے فروغ کیلئے موثر اقدامات کئے جائیں تو لاہور ڈویژن میں نئی سرمایہ کاری اور صنعتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ ایف بی آر حکام کے مطابق ادارہ ٹیکس دہندگان کی رجسٹریشن اور محصولات سے متعلق معلومات رکھتا ہے تاہم کتنی نئی فیکٹریاں قائم ہوئیں اور کتنے صنعتی یونٹ بند ہوئے۔ اس بارے میں باقاعدہ سرکاری اعداد و شمار ایف بی آر کی جانب سے جاری نہیں کئے جاتے ۔لاہور ڈویژن پاکستان کا اہم صنعتی مرکز ہے، اسلئے اگر کاروباری لاگت کم کی جائے اور سرمایہ کار دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں تو بند یونٹس کی بحالی اور نئی صنعتوں کے قیام کی رفتار میں نمایاں بہتری آسکتی ہے۔