اسلام آباد (بیورو رپورٹ) جمعیت علما اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے آزاد کشمیر میں کشیدگی ختم کرنے کے لیے ثالث کا کردار کرنے کا فیصلہ کرتے کہا ہے کہ قوم کشمیر کے امن و امان اور سلامتی کیلئے فکر مند ہے،ایکشن کمیٹی سے دھرنا ختم کرے ، دونوں فریقین مذاکرات کریں ۔ جمعیت کے سربراہ نے ایک ویڈو پیغام میں کہا کہ ان کو کالعدم کشمیر ایکشن کمیٹی نے ثالث کا کردار ادا کرنے کے لے ایک خط ارسال کیا تھا۔سربراہ جے یوآئی مولانا فضل الرحمان نے بیان میں کہا کہ میں یہ گفتگو ایسے موقع پر کر رہا ہوں ، جب کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورتحال کے اندر کشمیری عوام اور پاکستان کی عوام انتہائی فکر مند ہے۔ انہوںنے کہاکہ میں نے کشمیر اور پاکستان کے بہترین مفاد کیلئے مصالحتی کردار ادا کرنے کیلئے حامی بھری ہے،اس وقت کمیٹی کے لوگ دھرنے میں بیٹھے ہیں اور اگلے لائحہ عمل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ثالثی کا کردار ادا کرنے کیلئے مجھے وقت اور مہلت درکار ہے تاکہ حکومت سے رابطہ کیا جاسکے اور مذاکرات کیلئے گفتگو کی جاسکے ۔ میں ضروری سمجھتا ہوں کہ کمیٹی پہلے مرحلے میں اپنے دھرنے کو منسوخ کرے اور اگلے کسی لائحہ عمل کی طرف نا جائے تا کہ مذاکرات کی طرف اور مسئلہ کے حل کی طرف پیش رفت کیلئے ہمیں راستہ مل سکے ۔ مولانا فضل الرحمان نے دونوں فریقین سے نرم رویوں کی اپیل کی۔
آزاد کشمیر کشیدگی، فضل الرحمان کا ثالث کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ



















