لاہور( میاں ساجد سے) پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے عہدے پر عارضی تعیناتی کی مدت ختم ہونے کے باوجود انتظامی صورتحال واضح نہ ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر بلال محی الدین کی ریٹائرمنٹ کے بعد محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن پنجاب کی جانب سے پروفیسر آف اینستھیزیا سید عمران الحسن کو 22 اپریل کو ایگزیکٹو پی آئی سی کے عہدے کا اضافی چارج/عارضی ذمہ داری 90 روز کیلئے سونپی گئی تھی، تاہم مذکورہ مدت 21 جولائی کو مکمل ہونے کے بعد تاحال نئے انتظامی حکم کے حوالے سے صورتحال واضح نہیں ہو سکی۔ذرائع کے مطابق 90 روزہ مدت مکمل ہونے کے بعد اگر حکومت کی جانب سے تعیناتی میں توسیع، نئی تعیناتی یا کسی دوسرے افسر کو چارج دینے کا باقاعدہ حکم جاری نہیں کیا گیا۔ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی صوبے کا ایک اہم اور انتہائی حساس تدریسی و علاج گاہی ادارہ ہے جہاں روزانہ بڑی تعداد میں مریض امراض قلب کے علاج کیلئے آتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا منصب ادارے کے انتظامی، مالی اور طبی معاملات میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ہسپتال کی اہم خریداریوں، انتظامی فیصلوں، ترقیاتی امور، انسانی وسائل، طبی سہولیات اور پالیسی معاملات میں سربراہ ادارہ کلیدی کردار ادا کرتا ہے، اسلئے سربراہ کی قانونی و انتظامی حیثیت کا واضح ہونا ناگزیر ہے۔قانونی و انتظامی حلقوں کے مطابق کسی افسر کو مقررہ مدت کیلئے عارضی طور پر ذمہ داری سونپی جائے تو مدت مکمل ہونے کے بعد اس کے تسلسل کیلئے متعلقہ مجاز اتھارٹی کا باقاعدہ حکم ضروری ہوتا ہے۔ تاہم پی آئی سی کے معاملے میں یہ سوال اہم بن گیا ہے کہ 21 جولائی کو 90 روزہ مدت مکمل ہونے کے بعد سید عمران الحسن کس انتظامی حکم کے تحت ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں، اور اگر انہیں مزید ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں تو اس کا تحریری نوٹیفکیشن کہاں ہے۔ذرائع کے مطابق محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے اس اہم عہدے پر مستقل سربراہ کی تعیناتی میں تاخیر سے ادارے کے انتظامی معاملات کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ طبی حلقوں کا کہنا ہے کہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی جیسے بڑے ہسپتال میں انتظامی تسلسل اور فیصلہ سازی میں ابہام مریضوں کے مفادات کیلئے مناسب نہیں، اس لئے حکومت کو معاملے کو مزید طول دینے کے بجائے فوری طور پر واضح انتظامی فیصلہ کرنا چاہیے۔تاہم اس معاملے میں یہ امر بھی اہم ہے کہ کسی افسر کے بارے میں ”غیر قانونی طور پر عہدے پر قابض“ ہونے کا حتمی دعویٰ متعلقہ محکمہ کے تحریری ریکارڈ اور مجاز اتھارٹی کے حکم کی تصدیق کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ اگر 21 جولائی کے بعد کوئی توسیعی حکم، نیا نوٹیفکیشن یا ایسا انتظامی آرڈر جاری کیا گیا ہے جس کے تحت موجودہ افسر ذمہ داریاں جاری رکھے ہوئے ہیں تو اس کی تفصیلات بھی منظرعام پر آنا ضروری ہیں۔صحت کے ماہرین اور ہسپتال سے وابستہ حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن پنجاب فوری طور پر پی آئی سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی تعیناتی سے متعلق تمام حقائق واضح کرے، 22 اپریل کے 90 روزہ حکم کے بعد کی انتظامی پوزیشن سامنے لائے اور اگر عہدہ خالی ہو چکا ہے تو میرٹ، اہلیت اور متعلقہ قواعد کے مطابق مستقل سربراہ مقرر کیا جائے تاکہ صوبے کے اس اہم ترین امراض قلب کے ادارے کے انتظامی معاملات میں کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔
پی آئی سی میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی عارضی تعیناتی کی مدت ختم، نیا حکم جاری نہ ہوسکا


















