لاہور (مرزا ندیم بیگ) پنجاب حکومت اور لاہور پولیس کی جانب سے سٹریٹ کرائم پر قابو پانے کے دعووں کے باوجود شہر میں شہریوں سے موبائل فون، موٹرسائیکل اور نقدی چھیننے کے واقعات بدستور تشویش کا باعث ہیں۔ تاہم پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سٹریٹ کرائم کی شرح میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ ملزمان کی گرفتاری اور مسروقہ سامان کی ریکوری میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔ذرائع کے مطابق لاہور میں ڈکیتی، راہزنی، موبائل فون اور موٹرسائیکل چھیننے و چوری کے ہزاروں مقدمات مختلف تھانوں میں درج ہوئے۔ پولیس کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی، سیف سٹی کیمروں، ڈولفن فورس، پولیس رسپانس یونٹ اور کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی کارروائیوں کے باعث متعدد گینگز گرفتار کیے گئے۔ڈکیتی و راہزنی کے مقدمات: تقریباً 600 سے 700موبائل فون چھیننے و چوری کے مقدمات: تقریباً 1,800 سے 2,100موٹرسائیکل چھیننے و چوری کے مقدمات: تقریباً 2,500 سے 3,000دیگر سٹریٹ کرائم کے مقدمات: 1,000 سے زائدذرائع کے مطابق مجموعی طور پر گزشتہ سال کی نسبت سٹریٹ کرائم میں 10 سے 15 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم بعض تھانوں کی حدود میں جرائم کی شرح اب بھی بلند ہے۔لاہور پولیس کے مطابق موبائل فون ریکوری: 45 سے 50 فیصد،موٹرسائیکل ریکوری: 55 سے 60 فیصد،ڈکیتی کے مقدمات کی ٹریسنگ: تقریباً 65 فیصد،گرفتار ملزمان: سینکڑوں،خطرناک گینگز گرفتار: درجنوں پولیس کا کہنا ہے کہ سیف سٹی کیمروں، انسانی انٹیلی جنس اور جدید فرانزک طریقوں سے مقدمات کی تفتیش بہتر ہوئی ہے۔زیادہ متاثرہ تھانے ذرائع کے مطابق درج ذیل تھانوں کی حدود گزشتہ تین ماہ کے دوران سٹریٹ کرائم سے زیادہ متاثر رہیں،شادمان،گلبرگ،غالب مارکیٹ،اقبال ٹاون،ساندہ،ہربنس پورہ،مغل پورہ،گرین ٹاون،نشتر کالونی جوہر ٹاون،مانگا منڈی کے مضافاتی علاقے،شاہدرہ،ان علاقوں میں شہریوں سے موبائل فون، موٹرسائیکل اور نقدی چھیننے کے واقعات نسبتاً زیادہ رپورٹ ہوئے،لاہور پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ شہر میں سٹریٹ کرائم کے خاتمے کیلئے کرائم ہاٹ سپاٹس کی نشاندہی کر کے اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ ڈولفن فورس، پولیس رسپانس یونٹ، ایلیٹ فورس اور CCD مشترکہ کارروائیاں کر رہے ہیں، جبکہ سیف سٹی کیمروں کی مدد سے جرائم پیشہ عناصر کی نگرانی مزید موثر بنائی گئی ہے۔حکام کے مطابق موٹرسائیکل چوری اور موبائل فون چھیننے والے منظم گینگز کے خلاف خصوصی آپریشن جاری ہیں اور شہریوں کیلئے 15 ایمرجنسی پر فوری رسپانس کو بھی بہتر بنایا گیا ہے۔کرائم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صرف مقدمات کی تعداد میں کمی کو کامیابی قرار نہیں دیا جا سکتا، اصل پیمانہ شہریوں کا احساس تحفظ، ملزمان کو سزا، مسروقہ سامان کی مکمل ریکوری اور دوبارہ جرائم کی روک تھام ہے۔ ان کے مطابق پولیس کو ہاٹ سپاٹس پر مستقل انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، جدید نگرانی اور کمیونٹی پولیسنگ کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
حکومتی دعووں کے برعکس جرائم کی شرح میں بدستور اضافہ



















