لاہور (نعیم جاوید) لاہور کے مضافاتی علاقوں رائیونڈ، کاہنہ، فیروزپور روڈ، مناواں، شرقپور روڈ، کالا شاہ کاکو، بیڈیاں روڈ اور ملحقہ دیہات میں زرعی اراضی تیزی سے ہاوسنگ سکیموں میں تبدیل ہو رہی ہے، جس کے باعث زرعی پیداوار، ماحول اور غذائی تحفظ سے متعلق خدشات بڑھتے جا رہے ہیںماہرین کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں لاہور کے گرد و نواح میں زرعی زمین کا بڑا حصہ رہائشی و تجارتی استعمال میں تبدیل ہو چکا ہے۔ مختلف تحقیقی مطالعات کے مطابق 2000ءسے 2020ءکے دوران لاہور میں زرعی زمین کا قابل ذکر حصہ تعمیرات میں تبدیل ہوا جبکہ شہری پھیلاو کا زیادہ دباو رائیونڈ اور جنوبی لاہور کی سمت دیکھا گیا۔ آڈیٹر جنرل پاکستان کی ایک تحقیقی جائزہ رپورٹ کے مطابق لاہور میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران تقریباً ایک لاکھ 14 ہزار ہیکٹر قابل کاشت اراضی شہری استعمال میں تبدیل ہوئی، جس کا ایک بڑا حصہ ہاوسنگ سکیموں پر مشتمل ہے۔ زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ زرخیز زمین کے کم ہونے سے سبزیوں، چارہ جات، گندم، مکئی اور دیگر فصلوں کی مقامی پیداوار متاثر ہو رہی ہے جبکہ خوراک کی ترسیل کا خرچ بھی بڑھ رہا ہے۔ اس کے علاوہ زیرزمین پانی کی ری چارجنگ، درجہ حرارت میں اضافے اور ماحولیاتی آلودگی جیسے مسائل بھی شدت اختیار کر رہے ہیں۔ محکمہ زراعت پنجاب کے حکام کا کہنا ہے کہ زرخیز زرعی اراضی کے تحفظ کیلئے متعلقہ اداروں کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔ ان کے مطابق نئی ہاوسنگ سکیموں کی منظوری میں لینڈ یوز پلان، زرعی اہمیت اور متعلقہ قوانین کو مدنظر رکھنے کی سفارش کی جا رہی ہے، جبکہ کاشتکاروں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی، زیادہ پیداوار بیج اور فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کے پروگرام بھی جاری ہیں تاکہ محدود زمین سے زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکے۔ حکومت پنجاب نے غیر قانونی ہاوسنگ سکیموں کی روک تھام، زمین کے استعمال کی زوننگ اور ضلعی لینڈ یوز پلان کے نفاذ کیلئے خصوصی پلاننگ اتھارٹی اور ضلعی پلاننگ کمیٹیوں کے قیام کا فیصلہ کیا ہے تاکہ زرعی اراضی کو بے ہنگم تعمیرات سے بچایا جا سکے کسان نمائندوں کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو لاہور کے گرد موجود زرعی بیلٹ مزید سکڑ جائیگی جس سے مقامی غذائی پیداوار، ماحول اور دیہی معیشت کو شدید نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اعلیٰ درجے کی زرعی زمین پر نئی ہاوسنگ سکیموں کی منظوری محدود کی جائے، غیر قانونی سکیموں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور زرعی اراضی کے تحفظ کیلئے موثر قانون سازی کی جائے ماہرین کے مطابق زرعی زمین کا تحفظ صرف کسانوں ہی نہیں بلکہ ملکی غذائی سلامتی، ماحولیاتی توازن اور مستقبل کی پائیدار شہری منصوبہ بندی کیلئے بھی ناگزیر ہے۔
لاہور میں بے ہنگم ہاوسنگ سکیموں کا اژدھام، زرعی زمین تیزی سے سکڑنے لگی



















