بھارت کاپانی روکنا جنگی اقدام تصور ،نتائج خطرناک ہوں گے،پاکستان


اسلام آباد :(بیورورپورٹ)پاکستان نے واضح کردیا ضروری پانی کو جان بوجھ کر روکنے کی کوئی بھی کوشش دور رس نتائج کی حامل ہوگی۔

ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہاپانی روکنے کے کسی بھی اقدام کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جائےگا اور ممکنہ طور پر اقوام متحدہ چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت جنگی اقدام کے مترادف ،پانی کو سیاسی ہتھیار، دباو ڈالنے کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کااقدام نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ باہر بھی علاقائی امن و سلامتی کےلئے خطرہ بن سکتا ہے، کوئی صورتحال پیدا ہوئی تو بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرے کی ذمہ داری مکمل طور پر بھارت پر عائد ہوگی۔

طاہراندرابی نے کہا پاکستان اپنے حقوق کے دفاع کےلئے سفارتی، سیاسی، قانونی، اقتصادی ،بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ چارٹر کے مطابق دستیاب دیگر تمام ذرائع کو بھرپور انداز میں استعمال کرےگا،ہر ریاست کو اپنے دفاع کا حق حاصل ،پاکستان اپنی معیشت، قومی مفادات ،25 کروڑ عوام کی جانوں کے تحفظ کےلئے تمام ضروری اقدامات کرے گا، بھارت ذمہ داری کا مظاہرہ کرے،اشتعال انگیز بیانات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

دفتر خارجہ نے کہا کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ،یو این سلامتی کونسل قراردادوں میں حق خودارادیت کاوعدہ کیا گیا،بھارتی بیانات کی کوئی وقعت ہے نہ جواز ،صومالیہ میں پاکستانی شہریوں کی رہائی کےلئے حکومت تمام ممکنہ سفارتی و ادارہ جاتی سطح پر کوششیں کر رہی ہے۔