ایم کیو ایم رہنماﺅں کو سکیورٹی واپس،مراد ،شرجیل ،مرتضی استعفیٰ دیں،فاروق ستار


کراچی:(بیورورپورٹ) ایم کیو ایم رہنماﺅں کو سکیورٹی واپس دےدی گئی ، اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی سے بھی پیپلزپارٹی کے رہنما کا رابطہ ہوا ، سکیورٹی واپس ملنے کا امکان ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مرکزی رہنما امین الحق نے انکشاف کیا پیپلز پارٹی کی نااہلی بے نقاب کرنے پر سکیورٹی واپس لی گئی،معاملہ میڈیا پر آنے کے بعد 2وفاقی وزراءکو واپس ملی،مجھ سمیت فاروق ستار، انیس قائم خانی، علی خورشیدی کو سکیورٹی تا حال واپس نہیں ملی،گل پلازہ کے معاملے پر پیپلز پارٹی کی نااہلی ثابت ،ڈرانے، دھمکانے کےلئے سکیورٹی واپس لی مگر ہتھکنڈوں سے ڈرنے والے نہیں۔

مصطفی کمال نے کہا کراچی جیسا اہم شہر سندھ حکومت جیسی نااہل صوبائی حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہونا چاہئے، کراچی کو فی الفور وفاق کا حصہ بنایا جائے، وفاق نوٹیفکیشن کے ذریعے کراچی کو کنٹرول کرسکتا ہے، سکیورٹی واپس لےکر ڈرایا نہیں جاسکتا۔

فاروق ستار نے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کےلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا وزیراعلیٰ سندھ، وزیراطلاعات اور میئر کراچی استعفیٰ دیں،آتشزدگی واقعہ سے توجہ نہیں ہٹانے دینگے،آپ سکیورٹی واپس لیں ،مقدمات بنائیں پیچھے ہٹنے والے نہیں ،شہدا کو انصاف دلا کر رہیں گے،سندھ میں گورنر راج کی ضرورت نہیں، کراچی کے حوالے سے تو کوئی فیصلہ کریں، بلاول بھٹو سے ڈیڑھ سال سے وقت مانگ رہا ہوں لیکن وقت ہی نہیں دے رہے ،2029 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی فارغ ہے۔

دوسری جانب صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا ایم کیو ایم کے وزرا سے سکیورٹی واپس نہیں لی ،پھیلایا جانے والا تاثر بے بنیاد ہے،وفاقی وزرا اسلام آباد میں ایک ایک سپاہی کے ساتھ گھومتے ہیں ، کراچی میں ایم کیو ایم کے وزرا کو 10، 10سپاہی فراہم کیے گئے ،ایم کیو ایم کی سیاست دفن،عوام نے مسترد کر دیا ،سانحہ گل پلازہ کی انکوائری رپورٹ جلد آ جائے گی ،رپورٹ سے اطمینان نہ ہوا تو جوڈیشل کمیشن بھی بنایا جا سکتا ہے۔

شرجیل میمن نے کہا آزادی صحافت پر یقین رکھتے ہیں، کم عقل لوگوں کے کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، حافظ نعیم الرحمن اور جماعت کہیں نظر نہیں آتی ،ہمیشہ منفی سیاست کی گئی،احتجاج ضرور کریں اگر غیر جمہوری انداز اختیار کیا گیا تو حکومت کارروائی کرے گی، ایم کیو ایم نے اپنے قائد تحریک کو چھوڑ دیا،سوگ کو کامیاب بنانے کےلئے 30، 30معصوم مزدوروں کی جانیں لی جاتی تھیں، بعض عناصر نے ہمیشہ لاشوں پر سیاست چمکائی۔