پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی عروج سے زوال کی جانب گامزن

لاہور (میاں ذیشان) پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے افسران کی ناقص پالیسیاں ، انتظامی نااہلی سے اتھارٹی اپنے عروج سے زوال کی جانب سفر پر تیزی سے گامزن، گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کو جائیداد کے لین دین کے معاملے میںواحد دستاویز قرار دینے میں جزوی پسپائی اختیار کرتے ہوئے نقل اراضی ریکارڈ (فرد بیع) جاری کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا، فرد ملکیت کے خاتمے اور گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے نفاذ کو ڈیجیٹل انقلاب قرار دینے والی اتھارٹی اپنی ہی پالیسی پر عملدرآمد میں ناکامی سے دوچار ہے، جبکہ عوامی آگاہی مہم میں کروڑوں روپے سرٹیفکیٹ کی تشہیر میں اڑا دئیے گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق حکومت پنجاب نے 30 جون کے بعد فردِ ملکیت کے اجراءکو ختم کرتے ہوئے جائیداد کے لین دین کیلئے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کو واحد مستند دستاویز قرار دیا تھا، جس کی تشہیر پر پنجاب حکومت اور پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی نے کروڑوں روپے خرچ کیے اور اسے اراضی ریکارڈ کے نظام میں ایک بڑی اصلاح قرار دیا گیا۔ تاہم مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے پیچیدہ، طویل اور کئی مراحل پر مشتمل طریقہ کار نے شہریوں کیلئے نئی مشکلات کھڑی کر دیں۔ اراضی ریکارڈ مراکز میں سائلین کو بار بار چکر لگانے، غیر ضروری تاخیر، اضافی اخراجات اور لین دین کے معاملات میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ جائیدادوں کی خرید و فروخت اور انتقالات کی رفتار بھی نمایاں طور پر متاثر ہوئی۔ ذرائع کے مطابق لین دین کے معاملات سست پڑنے سے سرکاری فیسوں، رجسٹری فیس، اسٹامپ ڈیوٹی اور دیگر ٹیکسوں کی وصولی بھی متاثر ہوئی، جس کے باعث قومی خزانے کو مالی نقصان پہنچنا شروع ہو چکا تھا۔ عوامی دباﺅ کو مدنظر رکھتے ہوئے پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی نے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کو جائیداد کے لین دین کے معاملے میں واحد دستاویز قرار دینے میں جزوی پسپائی اختیار کرتے ہوئے نقل اراضی ریکارڈ (فرد بیع) جاری کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیاہے۔ ذرائع کے مطابق پلرا نے پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی ایکٹ 2017 کی دفعہ 5 کی شق (ب) اور (ج) اور دفعات 14 اور 16 کے تحت نقل اراضی ریکارڈ کو لین دین کے مقاصد کیلئے دوبارہ قانونی اور قابلِ قبول دستاویز قرار دے دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ اقدام دراصل اس امر کا اعتراف ہے کہ گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے نفاذ کے حوالے سے پی ایل آر اے کے اعلیٰ افسران کی منصوبہ بندی زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی تھی اور ادارہ عوامی سہولت کو یقینی بنانے میں ناکام رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک وقت میں ملک کا کامیاب ترین ڈیجیٹل ادارہ سمجھی جانے والی پی ایل آر اے آج ناقص پالیسیوں، غیر موثر انتظامی فیصلوں اور عوامی مسائل کے بروقت ادراک نہ ہونے کے باعث تیزی سے اپنے عروج سے زوال کی جانب گامزن دکھائی دے رہی ہے، جس سے نہ صرف ادارے کی ساکھ متاثر ہوئی ہے بلکہ عوام کا اعتماد بھی متزلزل ہوا ہے۔

لاہور (سپیشل رپورٹر) پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے ترجمان علی رضا بٹر سے خبر کے حوالے سے موقف لینے کیلئے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ میری چھٹیوں پر ہوں لیکن نوٹیفکیشن چیک کر کے بتاتا ہوں لیکن بار ہا کالز کرنے اور میسیجز کئے گئے لیکن ان کی طرف سے کوئی موقف یا وضاحت پیش نہ کی گئی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی یا ترجمان خبر کے حوالے سے اپنا موقف یا وضاحت پیش کرنا چاہیں تو ادارہ ہذا میں ان کے موقف کو من و عن شائع کیا جائیگا۔