حملے سخت کرنے کا اعلان،ایران نے دیر کردی اب قیمت چکانی پڑے گی،ٹرمپ

واشنگٹن:(بیورورپورٹ)صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے مزید سخت کرنے کا اعلان کردیا۔

وائٹ ہاوس میں سیکیور امریکہ ایکٹ پر دستخط کی تقریب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا پاور پلانٹ و پلوں پر حملے کریں گے یا نہیں کچھ نہیں کہہ سکتا،ڈیل کے قریب لیکن ایران معاملے کو ٹال رہا ہے، دیکھیں گے ڈیل کے مسئلے سے کیسے نمٹنا ہے وہ مسلسل ٹالتے چلے جا رہے ، پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل امریکہ ایران معاہدے کیلئے کوششیں کررہے ہیں۔

امریکی صدر نے کہا باراک اوبامہ جیسا معاہدہ نہیں بامعنی وامریکی مفاد پر مبنی ڈیل چاہتے ہیں،ایران کو معاہدے پر دستخط کرنے چاہئیں،تہران نے ایٹمی ہتھیار نہ بنانے پر اتفاق کرلیا ، مذاکرات ہوچکے ، دستاویزات پر دستخط کرنا باقی ہے۔

قبل ازیں ٹرمپ نے کہا ایران کی فوج مکمل طور پر تباہ و برباد ،تہران کے بہت سے حصے جیسے بحریہ فضائیہ عملاً موجود ہی نہیں رہے، مکمل طور پر شکست دی جا چکی ،ایران صرف باتیں کرتا ہے، عملی اقدام کچھ نہیں کرتا، مشرق وسطیٰ کا غنڈہ ختم ہو چکا ۔

ڈونلڈٹرمپ نے کہامعاہدہ تاخیر کا شکار ، ایران کے پاور پلانٹس ،پلوں پر نئے حملوں کا حکم دینے پر غور کررہے ہیں، ایران کی ناکہ بندی بحری جنگی تاریخ کی سب سے کامیاب ناکہ بندی ہے،تہران نے مذاکرات میں بہت دیر کردی اب قیمت چکانی پڑے گی۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل نمائندے سن لی نے کہا جنگ بندی کو برقرار رکھنا بڑی ترجیح ہونی چاہیے، فریقین طاقت کی بجائے برابری کی بنیاد پر بات چیت کریں،مذاکرات کے دوران ایران کیخلاف فوجی کارروائیوں نے سفارتی کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا، ایرانی جوہری مسئلے پر طاقت کے استعمال یا جنگ کی دھمکیاں صورتحال کو مزید خطرناک بنا سکتی ہیں،اقوام متحدہ کو سیاسی مقاصد کےلئے استعمال نہیں ہونا چاہیے، عالمی برادری سفارتی حل کیلئے مثبت ماحول پیدا کرے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال پر تشویش ، تمام متعلقہ فریقین حالات مزید بگاڑنے سے گریز ،خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کریں،امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان 3 ماہ سے جاری تنازع نے خلیجی ممالک و پورے مشرق وسطیٰ خطے کو شدید متاثر کیا ،حقائق سے ثابت ہو چکا فوجی ذرائع مسائل کا حل نہیں ہوتے ،کسی بھی فریق کو فوجی تنازع دوبارہ بھڑکانے سے گریز کرنا چاہیے۔