ٹیکس گزار ،افسر کے درمیان تعلق ختم ،فیس لیس سسٹم جگہ لے گا،وزیر خزانہ


اسلام آباد: (بیورورپورٹ) قومی اسمبلی نے 407 کھرب 41 ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری دےدی ،اخراجات پر ایوان میں بحث مکمل ہونے کے بعد آئینی تقاضوں کے مطابق ووٹنگ نہیں کرائی گئی۔

غیر ملکی قرضہ جات کی ادائیگی کےلئے 58 کھرب 36 ارب 27 کروڑ ، مقامی قرضہ جات کی ادائیگی کےلئے 259 کھرب سے زائد اور مقامی قرضوں کے مصارف کی مد میں 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد کے لازمی اخراجات منظور کیے گئے۔

قومی اسمبلی نے گرانٹس، امداد ،متفرق اخراجات کی مد میں 57 ارب ، فارن مشنز 50 کروڑ ، شعبہ قانون و انصاف 53 کروڑ 94 لاکھ ، انتخابات کے انعقاد کےلئے آئندہ مالی سال میں 10 ارب 57 کروڑ روپے کے لازمی اخراجات کی بھی منظوری دی۔

دریں اثنا بجٹ پر بحث سمیٹتے ہوئے وزیر خزانہ اورنگزیب نے کہا نئے سسٹم میں ٹیکس گزار ، ٹیکس افسر کے درمیان تعلق ختم ،فیس لیس سسٹم جگہ لے گا،بجٹ میں سمت واضح ،صنعتیں رواں دواں ،کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ سرپلس ،برآمدی شعبہ بہتری دکھا رہا ہے، آئی ٹی ایکسپورٹ میں 20فیصد اضافہ ہوا ،معاشی شرح نمو بڑھانے والا بجٹ ہے، ترقی ہوگی، ریلیف ملے گا۔

سینیٹر اورنگزیب نے کہا ڈیجیٹائزیشن ،اے آئی سے صوابدیدی اختیارات ختم کر دیئے، فنانس بل میں مزید تجاویز شامل کرنے کا ارادہ ہے،ایف بی آر کی کارکردگی پر مثبت تنقید خوش آئند ہے،پاکستان نے جنگ رکوا کر بڑا کارنامہ سرانجام دیا،کوششیں رنگ لائیں ،خطے میں جنگ کے بادل چھٹ گئے ،فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیراعظم شہبازشریف اور عوام کو مبارکباد دیتا ہوں۔