امریکہ ایران معاملے میں پیچیدہ ایشو ڈیل کر رہے ،فیلڈ مارشل کی دلچسپی امن کیلئے ہے، سکیورٹی ذرائع

راولپنڈی:(بیورورپورٹ)سکیورٹی ذرائع نے کہاہے امریکہ ایران معاملے میں بہت پیچیدہ ایشو ڈیل کر رہے ہیں،فیلڈ مارشل کی دلچسپی کی وجہ امن واستحکام ہے۔

رپورٹ کے مطابق اعلیٰ سکیورٹی حکام نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا پاکستان کا معاملے میںکردار ثالث کا ہے،جنگ نہ رکتی تو سنگین نتائج ہوتے، ہیڈلائن ڈپلومیسی میں دلچسپی نہیں رکھتے، پاکستان نے ثالثی کے تمام تقاضے پورے کیے ، دنیا کو آہستہ آہستہ ادراک ہو رہا ہے پاکستان نے کیا کیا ، پاکستان معاملے میں نہ پڑتا تو مسلم دنیا میں جنگ کون رکوا سکتا تھا؟۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق عظیم لڑائی وہ ہوتی جہاں آپ بغیر لڑے جنگ جیتیں، ابھی بھی معاملے میں بگاڑ پیدا کرنے والے موجود ، اسرائیل کا انٹرنیشنل میڈیا پر اثر و رسوخ ، قطر، سعودی عرب، ترکیہ، مصر اور یو اے ای کو بھی کریڈٹ جاتا ہے، سب ممالک نے پاکستان کی امن خواہش پر لبیک کہا،پاکستان کے ایران، سعودی عرب، امریکہ سمیت سب ممالک کےساتھ الگ الگ تعلقات ، افغانستان کےساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں،ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کے دورہ بھارت سے فرق نہیں پڑتا، کون کس سے مل رہا ،فرق نہیں پڑتا، اتنے تنگ نظرئیے کےساتھ چیزوں کو نہیں دیکھتے، ممالک کےساتھ اچھے تعلقات قائم ہیں۔

اعلیٰ سکیورٹی حکام نے کہاحالیہ علاقائی صورتحال میں پاکستان نے متوازن و ذمہ دارانہ کردار ادا کیا،وزیراعظم ،فیلڈ مارشل نے سفارتی سطح پر ایسے اقدامات کیے جن سے دونوں گروپس کو پاکستان کی غیر جانبداری و مثبت کردار پر اعتماد حاصل رہا،مسلم ممالک نے بھی پوری صورتحال میں تحمل و برداشت کا مظاہرہ کیا،سفارتی کوششوں میں اللہ تعالیٰ کی مدد شامل رہی،خدانخواستہ جنگ کا دائرہ مزید پھیل جاتا تو توانائی، معیشت و سکیورٹی شعبوں پر انتہائی سنگین اثرات مرتب ہوتے، جھٹکے امیر و غریب سب کو محسوس کرنا پڑتے،تمام صورتحال میں پاکستانی میڈیا نے بھی ذمہ دارانہ کردار ادا کیا، آئی ایس پی آر نے صرف 2پریس ریلیز جاری کیں ،وزیراعظم کے بیانات و سوشل میڈیا پیغامات دنیا بھر کےلئے یکساں طور پر جاری کیے گئے ، کسی مخصوص فریق کو الگ پیغام نہیں دیا گیا۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل کے دورہ ایران سمیت مختلف سفارتی رابطوں نے کشیدگی کم کرنے ،اعتماد سازی میں اہم کردار ادا کیا،پاکستان خطے میں موثر و قابل اعتماد کردار کے طور پر سامنے آیا،اعلیٰ سکیورٹی حکام کے مطابق 15 جون 2026 تک 32092 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے، دہشتگردی کی 2170 کارروائیوں میں 64 فیصد خیبرپختونخوا ،34 فیصد بلوچستان میں ہوئیں، 1861 دہشتگردوں کو ہلاک کیاگیا، 640 پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار و شہری شہید ہوئے، 862 دہشتگرد غضب للحق آپریشن افغانستان میں مارے گئے باقی 999 پاکستان میں ہلاک ہوئے۔

اعلیٰ حکام نے کہا پاکستان کا پہلا نشان حیدر کشمیر سے ہے، ایشو عوام نہیں،دہشتگرد رجیم سے ہے ،مقبوضہ کشمیر میں بی جے پی نے بھی پیسہ لگایا، مقبوضہ کشمیر میں نقل و حرکت و اظہار رائے کی آزادی نہیں ،بھارت مقبوضہ کشمیرکا ملٹری کے ذریعے بھی کچھ نہ کرسکا اس لیے آزاد کشمیر میں آگ لگائی ،آزاد کشمیر میں حقوق کی تحریک سے آغاز کیا گیا، ڈیفالٹ آپشن ہمیشہ بات چیت ہوتی ہے، اصل کہانی کیا ہے سامنے آنے میں وقت لگا، پتہ تھا جے اے اے سی کا ایجنڈا کیا ہے، کدھر سے آرہے ہیں، بی وائے سی کو جب دہشتگرد تنظیم کہا گیا تب بھی بہت شور مچا تھا پھر بی وائے سی بھی کھل کر سامنے آگئی۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر حکومت نے لوگوں کو کہا اپنی دکانیں کھولیں لیکن جے اے اے سی نے دھمکی دی جو دکانیں کھولے گا آگ لگا دیں گے،آزاد کشمیر حکومت پولیٹیکل پراسیس فالو کررہی تھی، آزاد کشمیر میں بیٹھ کر ریاست مخالف نعرے لگائے جا رہے ہیں، ریاست پیار محبت سے ڈیل کررہی ، ریاست ہمیشہ پہلے ماں بن کے ڈیل کرتی بعد میں باپ بنتی ہے،ہر لمحے جے اے اے سی مزید کھل کر سامنے آرہی ہے، آئینی، قانونی طریقے سے ڈیل کیا جائے گا۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق اندرونی چیلنجز میں دہشتگردی بھی ہے اب جنگ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہوچکی،تناظر میں بجٹ کم ، ملٹری و سیاسی لیڈر شپ کو بھی احساس ہے،فوج میں 40 فیصد کے قریب جوان کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں،اعلیٰ سکیورٹی حکام نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کےساتھ کسی بھی ملاقات کی تردید کرتے ہوئے کہا9 مئی کرنے اور کرانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔