لاہور (مشرق نیوز) سینئر اداکارہ صائمہ قریشی نے کہا ہے کہ ان کیلئے زندگی کا سب سے بڑا صدمہ ان کی شادی کا ختم ہوجانا تھا لیکن والد کے انتقال سے بھی وہ ٹوٹ گئی تھیں، وہ تنہا رہ گئی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ والدین کی اکلوتی اولاد تھیں اور ان کی عمری میں ہی والد انتقال کر گئے تھے، جس کے بعد وہ تنہا رہ گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ والد کے انتقال کا صدمہ بہت بڑا تھا، بہن یا بھائی نہ ہونے سے انہیں ہمیشہ ان کی کمی محسوس ہوئی، انہیں آج بھی شدت سے یہ احساس ہوتاہے کہ ان کی بہن یا بھائی ہونا چاہیے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایاکہ انہیں پہلی بار آٹھویں جماعت میں محبت ہوئی تھی، اس وقت انہیں انگریزی میں ’آئی لو یو‘ بھی لکھنا نہیں آتا تھا۔
صائمہ قریشی کے مطابق پہلی نظر میں پیار ہوجاتا ہے اور ایسی باتیں سچی ہوتی ہیں، تاہم انہیں کبھی کسی سے پہلی نظر میں پیار نہیں ہوا، البتہ آٹھویں جماعت میں انہیں اپنا ہم عمر لڑکا اچھا لگتا تھا، انہیں دیکھ کر انہیں سکون ملتا تھا۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ شادی ختم ہونے کے بعد انہوں نے تنہا بچوں کی پرورش کی اور جب انکے بڑے بیٹے کو کسی لڑکی سے محبت ہوئی تو انہوں نے بیٹے پر واضح کیا کہ وہ اپنے اخراجات پر لڑکی سے شادی کریں۔
اداکارہ کے مطابق انکی جانب سے خبردار کرنے پر بیٹے کو بات سمجھ آگئی، پہلے وہ ہواوں میں اڑ رہے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں صائمہ قریشی نے اپنی شادی ٹوٹنے کو زندگی کا سب سے بڑا صدمہ اور دکھ قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب ان کی شادی طلاق پر ختم ہوئی تو انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے دنیا ہی ختم ہوگئی ہو، ان کیلئے سب کچھ ختم ہوگیا تھا۔ اداکارہ کے مطابق طلاق سے ان کا دل بری طرح ٹوٹا اور وہ صدمے میں چلی گئیں جب کہ ان کے پاس دل کا درد ہلکا کرنے کیلئے بہن یا بھائی بھی نہیں تھے۔
صائمہ قریشی نے کہا کہ ان کی طرح دل ٹوٹنے اور طلاق جیسے معاملات سے گزرنے والی خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنی قریبی سہیلیوں سے باتیں کریں، وہ خود کو مصروف رکھیں، اس سے انہیں راحت ملے گی۔
طلاق ہونے پر لگا کہ جیسے دنیا ہی ختم ہوگئی ہو: صائمہ قریشی



















