کراچی (مشرق نیوز) کراچی میں آلودگی، موسمیاتی تبدیلی اور حکومتی اداروں کی جانب سے جراثیم کش سپرے کے اقدامات نہ ہونے کے باعث ہسپتالوں میں ڈینگی اور ملیریا کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
مذکورہ بالا صورتحال کے مدنظر ڈاکٹروں نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ڈینگی سے بچاو کیلئے خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ شہر قائد میں بڑھتی آلودگی اور سپرے کے فقدان کے باعث جناح ہسپتال میں روزانہ 200 سے زائد مریض تیز بخار، سردی اور جسم میں درد کی علامات کے ساتھ لائے جا رہے ہیں جن میں سے تقریباً 20 فیصد کے ڈینگی ٹیسٹ مثبت آ رہے ہیں۔
ڈپٹی انچارج ایمرجنسی جناح ہسپتال ڈاکٹر عرفان صدیقی نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث مریضوں کی تعداد میں 15 سے 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان میں کھانسی، نزلہ اور چیسٹ انفیکشن کے مریض زیادہ ہیں، جن میں وائرل علامات عام طور پر دیکھی جا رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی سے مچھروں کی افزائش میں اضافہ ہوا ہے اور ہسپتال میں روزانہ تقریباً 40 مریضوں میں ڈینگی کی تشخیص ہو رہی ہے۔ ایک سے دو مریضوں میں پلیٹ لیٹس کی تعداد 50 ہزار سے بھی کم پائی جاتی ہے جس کے باعث اندرونی خون بہنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسے مریضوں کو فوری طور پر ہائیڈریشن دی جاتی ہے۔
ڈاکٹر عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ ڈینگی کے مریض کو اچانک 104 سے 105 درجے تک بخار ہوتا ہے اور جسم میں شدید درد محسوس ہوتا ہے جبکہ ملیریا کے مریض کو رات کے وقت بخار، کپکپی اور پسینہ آتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کچھ مشتبہ چکن گونیا کے کیس بھی رپورٹ ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈینگی کے دوران درد کم کرنے والی ادویات (پین کلرز) کا زیادہ استعمال خطرناک ثابت ہوتا ہے، کیونکہ پلیٹ لیٹس پہلے ہی کم ہوتے ہیں اور یہ ادویات خون کو مزید پتلا کر دیتی ہیں۔ ایسے مریضوں کو پانی، جوس اور پھلوں کا زیادہ استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے تاکہ جسم میں پانی اور نمکیات کی سطح برقرار رہے۔
کراچی ، موسمیاتی تبدیلی کے باعث ملیریا اور ڈینگی کے مریضوں میں اضافہ



















