ہیمبرگ، لندن (مشرق نیوز) ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مسوڑھوں سے خون آنا مہلک گردوں کی بیماری کی علامت ہو سکتا ہے۔ جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں محققین نے چھ ہزار سے زائد افراد کے ڈینٹل ریکارڈز کا جائزہ لیا جس سے معلوم ہوا کہ جن افراد کے گردے معمول کے مطابق کام کر رہے تھے، ان میں صرف 14 فی صد شدید مسوڑھوں کی بیماری کا شکار تھے۔
اسکے برعکس جن افراد میں گردوں کی کارکردگی درمیانے درجے تک متاثر تھی، ان میں شدید مسوڑھوں کی بیماری کی شرح 35 فیصد سے زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کے مطابق برطانیہ میں تقریباً ہر دو میں سے ایک بالغ کسی نہ کسی درجے کی مسوڑھوں کی بیماری کا شکار ہے، جس کی علامات میں مسوڑھوں کا سرخ یا سوج جانا اور دانت صاف کرتے وقت خون آنا شامل ہیں۔
یہ بیماری عموماً دانتوں کی مناسب صفائی نہ کرنے کے باعث دانتوں پر جمع ہونے والے میل سے پیدا ہوتی ہے، جو مسوڑھوں میں سوزش کا سبب بنتی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس تحقیق سے براہِ راست یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مسوڑھوں کی بیماری گردوں کی خرابی کا سبب بنتی ہے۔ تاہم، دونوں کے درمیان مضبوط تعلق سامنے آیا ہے۔
انکے مطابق یہ نتائج اس بڑھتے ہوئے سائنسی شواہد کی حمایت کرتے ہیں کہ منہ اور دانتوں کی صحت کا تعلق جسمانی صحت، خصوصاً گردوں کی کارکردگی، سے بھی ہو سکتا ہے۔ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ اگر مسوڑھوں سے بار بار خون آئے، سوجن برقرار رہے یا دیگر علامات ظاہر ہوں تو صرف دانتوں کے ڈاکٹر ہی نہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر معالج سے بھی رجوع کرنا چاہیے۔
مسوڑھوں سے خون آنا کس خطرناک بیماری کی علامت ہو سکتا ہے؟


















