کراچی، اسلام آباد (بیورو رپورٹ) سربراہ جے یو آئی فضل الرحمن نے کہا ملک میں بد امنی، صوبوں میں حالات خراب ہیں، ریاست کو امن کےلئے مربوط اور قابل اعتماد پالیسی کے مطابق حل نکالنا ہوگا ، اقلیتوں سمیت سب کو حقوق دینے ہوں گے،کراچی میں جمعیت علمائے اسلام منارٹی ونگ سندھ کے تحت منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فضل الرحمن نے کہا امن انسانی حقوق کے تحفظ کی علامت ہے اگر جان و مال، عزت وآبرو اور مال محفوظ ہے تو امن ہوگا، ریاست اگر امن قائم کرے گی تو عوام محفوظ ہوں گے، سندھ سمیت تمام صوبوں میں بد امنی، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں حالات بہت خراب ہیں، ہم امن چاہتے ہیں، ہم حالات کی بہتری چاہتے ہیں،سب کو ملکر ملک کے حالات کی بہتری اور معیشت کےلئے کردار ادا کرنا ہوگا،دریں اثناامیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے ملک بھر میں نافذ پٹرولیم لیوی نظام کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کر دیا،درخواست میں نئی متعارف کردہ ”کلائمیٹ سپورٹ لیوی“ کو بھی چیلنج کیا گیا ہے،پٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی کےخلاف وفاقی آئینی عدالت میں ایڈووکیٹ عمران شفیق کے ذریعے آئینی درخواست دائر کی گئی،درخواست میں مو¿قف اپنایا پٹرولیم لیوی آئین پاکستان، پارلیمانی بالادستی، وفاقی نظام، بنیادی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے خلاف ہے، پٹرولیم لیوی اب ایک محدود ریگولیٹری سرچارج نہیں رہی بلکہ پٹرولیم لیوی وفاقی حکومت کیلئے سب سے بڑے ریونیو ذرائع میں تبدیل ہو چکی ہے،امیر جماعت اسلامی نے درخواست میں موقف دیا پٹرولیم لیوی کو پارلیمنٹ کے بجائے مسلسل ایگزیکٹو نوٹیفکیشنز اور ایس آر اوز کے ذریعے چلایا جا رہا ہے، فنانس ایکٹ 2025 میں حکومت نے پٹرولیم لیوی پر پہلے سے موجود قانونی حد ختم کر دی، ماضی میں پٹرولیم لیوی کی حتمی مقدار ہر سال پارلیمان خود طے کرتی تھی لیکن پارلیمنٹ نے ففتھ شیڈول ختم کر کے عملی طور پر حکومت کو کھلی اور غیر محدود مالیاتی طاقت دی،حکومت وصولی کو ”لیوی“ کا نام دیتی ہے جبکہ حقیقت میں پٹرولیم لیوی ٹیکس کی شکل اختیار کر چکی جو عوام سے جبری طور پر وصول کی جانے والی عمومی ریونیو وصولی ہے، لیوی کے بدلے میں عوام کو کوئی مخصوص خدمت یا فائدہ بھی فراہم نہیں کیا جاتا،امیر جماعت اسلامی نے استدعا کی پٹرولیم لیوی کو ”ٹیکس“ قرار دیتے ہوئے آئین سے متصادم ہونے کی بنا پر کالعدم قرار، حکومت کو وصول شدہ لیوی کے استعمال اور مصرف کی تفصیلات عدالت میں پیش کرنے کا حکم ، ایگزیکٹو کو نوٹیفکیشنز اور ایس آر اوز کے ذریعے عوام پر غیر محدود مالیاتی بوجھ عائد کرنے سے روکا جائے۔
صوبوں میں حالات خراب، ریاست کو امن کیلئے مربوط حل نکالنا ہوگا:فضل الرحمن



















