اسرائیل سے دوطرفہ تعاون کا معاہدہ ختم کیا جائے:سپین کا یورپی یونین پرزور

میڈرڈ، ماسکو (مشرق نیوز) سپین نے یورپی یونین پر زور دیتے ہوئے اسرائیل سے دوطرفہ تعاون کا معاہدہ ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا ، وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے کہاسپین نے غزہ تنازع اور ہمسایہ ملک لبنان پر اسرائیلی حملوں کے باعث وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ، دوسری جانب نیتن یاہو نے سپین پر”منافقت اور دشمنی“کا الزام عائد کیا،سانچیز نے اندلس میں سیاسی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا آج سپین کی حکومت یورپی یونین کو تجویز پیش کرے گی کہ وہ اسرائیل سے دوطرفہ تعاون کا معاہدہ ختم کر دے، اسرائیل بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے اور اس لیے یورپی یونین کا شراکت دار نہیں ہو سکتا، سادہ سی بات ہے،علاوہ ازیں روس نے ایران سے متعلق جاری کشیدگی پر ردعمل دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے مذاکرات کا عمل جاری رہے گا ، فریقین مسائل کے حل کےلئے سفارتی راستہ اختیار کریں گے، ترجمان کریملن نے اپنے بیان میں کہا روس ایران کے معاملے میں باضابطہ ثالث کا کردار ادا نہیں کر رہا تاہم اگر ضرورت پیش آئی تو روس تعاون اور مدد کےلئے تیار ہے،موجودہ صورتحال میں مذاکراتی عمل نہایت اہم ہے کیونکہ اس کے ذریعے نہ صرف خطے میں کشیدگی کو کم کیا جا سکتا ہے بلکہ عالمی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات سے بھی بچا جا سکتا ہے۔