پاکستان علما ءکونسل ، دارالافتا ءپاکستان کا حجاج و عمرہ زائرین کیلئے ضابطہ اخلاق

لاہور (وقائع نگار خصوصی) پاکستان علما ءکونسل ، انٹرنیشنل تعظیم حرمین شریفین کونسل اور دارالافتا ءپاکستان نے حجاج کرام کیلئے ضابطہ اخلاق جاری کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ حرمین شریفین کے تقدس و احترام کو مدنظر رکھتے ہوئے سعودی عرب کی وزارت حج و عمرہ کی طرف سے جاری کردہ ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل کریں۔چیئرمین پاکستان علما ءکونسل و سیکرٹری جنرل انٹرنیشنل تعظیم حرمین شریفین کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے حافظ طارق محمود ، مولانا اسعد زکریا ، مولانا نعمان حاشر، مولانا محمد شفیع قاسمی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب میں رہنے والے بغیر اجازت نامے کے حج نہ کریں ، بغیر اجازت نامے کے حج شرعی و قانونی طور پر جائز نہیں ہے۔ ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ حج اور عمرہ پر روانگی سے قبل مکمل معلومات حاصل کریں تا کہ مناسک حج و عمرہ میں مشکلات پیش نہ آئیں۔ مملکت سعودی عرب جو اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کیلئے ہمہ وقت کوشاں ہے اس کے تمام اداروں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے مہمانوں کی بھرپور خدمت کر سکے۔ اس لیے حجاج پر بھی لازم ہے کہ وہ ضابطہ اخلاق اور سعودی قوانین کی مکمل پاسداری کریں۔دوران حج سیاسی میدان لگانے کی خود کوشش کریں نہ کسی بھی ایسی کوشش کا حصہ بنیں۔ حج کانفرنس میں جاری کردہ ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی غیر رجسٹرڈ حج و عمرہ گروپ ، آن لائن گروپ سے بکنگ نہ کروائیں ، سعودی عرب میں رہنے والے بغیر اجازت نامہ کے حج نہ کریں ، بغیر اجازت نامہ حج شرعی و قانونی طور پر جائز نہیں ہے ۔ ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ حج یا عمرہ کے لیے روانہ ہوتے وقت اپنی نیت کو خالص اللہ کیلئے کر لیں کہ ہمارا یہ حج یا عمرہ اللہ ہی کیلئے ہے اور اس کا مقصد دنیا کی نمود و نمائش نہیں ہے اور حتی الامکان عبادت کی ویڈیو اور تصاویر سے اجتناب کریں۔ حج اور عمرہ پر روانگی سے قبل حج اور عمرہ کے بار ے میں مکمل معلومات حاصل کر لینی چاہئیں اورا گر معلومات حاصل نہیں کیں تو پھر سفر کے دوران کسی جاننے والے سے ضرور رہنمائی لے لینی چاہیے تا کہ مناسک حج اور عمرہ میں مشکلات پیش نہ آئیںاور معلومات کے حصول کیلئے کسی قسم کی گھبراہٹ کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔حج یا عمرہ پر روانگی کے وقت جو طریقہ کار اور ضابطہ وزارت مذہبی امور یا حج، عمرہ گروپ کے رہنماﺅں نے مرتب کیا ہو اسی کی رہنمائی میں حج ، عمرہ کے سفر کو مرتب کریں اگرچہ اس میں آپ کے مزاج کے خلاف ہی کوئی چیز کیوں نہ ہو۔حج اور عمرہ کا بنیادی مقصد ہی اپنی انا ، تکبر کو قربان کر کے اللہ رب العزت کے سامنے اپنے آپ کو پیش کرنا ہے او ر اس بات کا اقرار اور اظہار کرنا ہے کہ میں آپ کا بندہ ہوں اور آپ میرے خالق ہیں اور آپ کے حکم کے مطابق ہی مجھے زندگی بسر کرنی ہے اور آپ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات اور سیرت کو اپنا تے ہوئے دنیاوی لذتوں کو چھوڑ کر ان دو سفید چادروں کو اختیار کر رہا ہوں اور لبیک اللھم لبیک کی صدائیں بلند کر کے اپنی عاجزی ، انکساری اور بندگی کا اعلان کر رہا ہوں۔سعودی عرب کی وزارت حج ، وزارت داخلہ کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ وہ حجاج کرام اور زائرین کیلئے زیادہ سے زیادہ سہولتیں پیدا کرے ۔ ائیر پورٹ پر اور ائیر پورٹ سے روانگی میں ہونے والی تاخیر پر پریشان ہونے کی بجائے اللہ کا ذکرکریں، لبیک اللھم لبیک کی صدائیں لگائیں اور کثرت سے درود شریف پڑھیںاور اس بات کا احساس اور ادراک رکھیں کہ حج میں مشکلات آتی ہیں اور ان مشکلات پر صبر کرنا ہی حج کے اجر کا سبب بنے گا۔ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں رہتے ہوئے سعودی عرب کی وزارت حج اور وزارت داخلہ کے قوانین کی مکمل پاسداری کرنا حجاج کرام پر لازم ہے۔اگرلاکھوں لوگ قانون کی پابندی نہ کریں اور اپنی مرضی اور منشا کے مطابق وقت گزارنے کی کوشش کریں تو اس سے افرا تفری اور فساد کی کیفیت پیدا ہو گی جس کو قرآن و سنت نے سختی کے ساتھ منع کیا ہے۔حج کے دوران سعودی عرب میں اور بالخصوص مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ ، منی اور عرفات میں سیاسی میدان لگانے کی خود بھی کوشش نہ کریں اور کسی بھی ایسی کوشش کا حصہ نہ بنیں ۔ ان قوتوں کا مقصد صرف اور صرف حرمین الشریفین کے امن کو تباہ کرنا اور حجاج اکرام کیلئے مشکلات پیدا کرنا ہے۔ ایسا کرنے والے افراد ، گروہوں ، جماعتوں سے مکمل دور رہیں اور اگر آپ کے علم میں اس طرح کی کوئی بات آ جائے تو اپنے گروپ کے قائد کو اس سے ضرور آگاہ کریںاور افواہوں پر توجہ نہ دیں۔منی ، عرفات، اور مزدلفہ آتے اور جاتے ہوئے اپنے گروپ کے قائد کی ہدایات کو واضح پکڑیں ، کسی قسم کی جلد بازی نہ کریں کیونکہ جلد بازی کے نتیجہ میں خدانخواستہ کوئی حادثہ ہو گیا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟اسی طرح رمی جمرات کے معاملہ پر بھی قافلے میں شریک علما اور گروپ قائد کی ہدایات کو مد نظر رکھیں اور جلد بازی نہ کریں۔ رمی جمرات کے مسئلہ پر علمائے کرام اور مفتیان عظام نے عورتوں ، بیماروں اور ضعیفوں کیلئے شریعت اسلامیہ کی روشنی میں جو سہولتیں بتائی ہیں ان سہولتوں کو مد نظر رکھیں اور جب اللہ تبارک و تعالی نے آپ کیلئے سہولتیں دی ہیں تو پھر ان سہولتوں کو اختیار کرنا چاہیے اور اپنے لیے مشکلات پیدا نہیں کرنی چاہئیں۔مملکت سعودی عرب میں بھیک مانگنا اور منشیات لے جانا بہت بڑا جرم ہے ، حجاج کرام اور عمرہ زائرین اس قسم کی سرگرمیوں سے دور رہیں۔ کانفرنس میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں کہا گیا کہ وطن عزیز پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے علما و مشائخ ، سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین ، حج منظمین کے نمائندے ، مملکت سعودی عرب کی اسلام اور مسلمانوں کیلئے خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ، بلا شبہ مملکت سعودی عرب حجاج اور زائرین کیلئے جو تبدیلی لا رہی ہے وہ قابل تحسین ہے۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ پاکستان سمیت تمام حجاج و زائرین ، ان کے منظمین اور حکومتیں ،مملکت سعودی عرب کی حج پالیسی پر عملدرآمد کے پابند ہیں ۔