گوادر مستقبل کی عالمی تجارتی گزرگاہ ہے: جنرل (ر) ناصر جنجوعہ

لاہور (کامرس رپورٹر) سابق نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں بلوچستان کی اصل اہمیت کو ابھی تک مکمل طور پر نہیں سمجھا گیا، حالانکہ یہی صوبہ ملک کو ترقی کی نئی بلندیوں تک لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے،گوادر اور چاہ بہار دراصل ایشیا کے دروازے ہیں اور مستقبل میں عالمی تجارت کا بڑا رخ پاکستان، خصوصاً گوادر کی جانب ہوگا،اگرچہ پنجاب نے ملک کو سنبھالنے میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کیا اور دیگر صوبوں نے بھی اپنا حصہ ڈالا، تاہم پاکستان کی حقیقی معاشی ترقی بلوچستان سے وابستہ ہے،گوادر میں پیدا ہونے والے نئے مواقع نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیں گے بلکہ پورے ملک کی معیشت کو مستحکم کریں گے۔لاہور چیمبر میں منعقدہ اس سیشن میں صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے مہمانوں کا استقبال کیا جبکہ لاہور چیمبر اور گوادر جمخانہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی کیے گئے۔ اس موقع پر چیئرمین گوادر جمخانہ احمد اقبال بلوچ، سابق صدر لاہور چیمبر محمد علی میاں، ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین فردوس نثار، شعبان اختر، احد امین ملک، رانا نثار اور کنوینر عاطف خان سمیت دیگر شریک تھے۔ناصر جنجوعہ نے مزید کہا کہ پاکستان جغرافیائی لحاظ سے ایک انتہائی اہم ملک ہے جبکہ بھارت، ایک بڑا ملک ہونے کے باوجود جغرافیائی طور پر محدود ہے اور وسطی ایشیا و یورپ تک رسائی کیلئے اسے پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے حوالے سے بے شمار قربانیاں دی ہیں اور اب دنیا کو واضح پیغام دیا جا چکا ہے کہ پاکستان کے ساتھ متوازن اور باوقار تعلقات ہی سب کے مفاد میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ جس طرح دوسری جنگِ عظیم میں کہا جاتا تھا کہ تمام راستے لندن کو جاتے ہیں، اسی طرح آنے والے وقت میں عالمی تجارت کے راستے پاکستان کی طرف آئیں گے اور یہاں سے آگے بڑھیں گے۔ انہوں نے گوادر کو اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم تحفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں یہ پورے خطے کیلئے گیم چینجر ثابت ہوگا۔صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ پنجاب آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا جبکہ بلوچستان رقبے کے اعتبار سے سب سے وسیع صوبہ ہے اور اس میں بے پناہ معاشی امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ کی سٹرٹیجک اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے اور یہ مستقبل میں پاکستان کی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت کسی بھی ملک سے کم نہیں اور حالیہ کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ جب تمام ادارے ایک صفحے پر ہوں تو ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مضبوط معیشت ہی مضبوط دفاع کی بنیاد ہے اور بزنس کمیونٹی، سیاسی قیادت اور افواج کے اشتراک سے پاکستان تیزی سے آگے بڑھ سکتا ہے۔فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ گوادر، بلوچستان اور دیگر وسائل میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں جبکہ اگر بلوچستان کی سیاحت کو فروغ دیا جائے تو یہ دنیا کے بہترین سیاحتی مقامات میں شامل ہو سکتا ہے۔چیئرمین گوادر جمخانہ احمد اقبال بلوچ نے کہا کہ بلوچستان ہمیشہ سے بے پناہ صلاحیتوں کا حامل رہا ہے اور دشمن عناصر اس کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، تاہم وقت کے ساتھ حالات بہتر ہو رہے ہیں اور ترقی کی رفتار تیز ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر دنیا کی مرکزی گزرگاہ پر واقع ہے اور اسے بجا طور پر“سونے کی کان”کہا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ گوادر میں ترقی کی نئی لہر آ چکی ہے اور بین الاقوامی دلچسپی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ باہمی روابط، سرمایہ کاری اور تعاون کے ذریعے گوادر اور بلوچستان کو ترقی کی نئی منزلوں تک پہنچایا جائے گا۔جنرل (ر) ناصر جنجوعہ نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ پاکستان نے گزشتہ دہائیوں میں بے شمار چیلنجز کا سامنا کیا لیکن آج بھی مضبوطی سے کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی قربت اور توانائی کی عالمی گزرگاہ کے باعث گوادر کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اگر تیل پیدا کرنے والے ممالک اپنی ترسیل گوادر کے ذریعے شروع کریں تو پاکستان خطے میں ایک بڑی معاشی طاقت بن سکتا ہے۔