لاہور (مرزا ندیم بیگ) کینال روڈ پر ون ویلنگ کے دوران 24 سالہ ابرار کی ہلاکت نے ایک بار پھر لاہور میں خطرناک ون ویلنگ کلچر، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں اور اس کے باوجود بڑھتے حادثات پر کئی سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ابتدائی معلومات کے مطابق لالہ ساجد گروپ کے نوجوان اچھرہ سے ایف سی پل کی جانب کینال روڈ پر خطرناک انداز میں ون ویلنگ کررہے تھے۔ حادثے سے تقریباً ایک گھنٹہ قبل لاہور ٹریفک پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے حسنین نامی ون ویلر کو گرفتار کرکے تھانہ اچھرہ پولیس کے حوالے کیا جبکہ دیگر ساتھی فرار ہوگئے۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کے موبائل فون سے ون ویلنگ کی سینکڑوں ویڈیوز بھی برآمد ہوئیں۔ذرائع کے مطابق کارروائی کے باوجود یہی گروپ دوبارہ کینال روڈ پہنچا اور ون ویلنگ شروع کر دی۔ اسی دوران ایک موٹرسائیکل بے قابو ہو کر حادثے کا شکار ہوئی جس کے نتیجے میں 24 سالہ ابرار موقع پر جاں بحق ہوگیا۔لاہور ٹریفک پولیس نے رواں سال ون ویلنگ کے خلاف متعدد خصوصی کریک ڈاون کئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف جولائی تک ون ویلنگ کے 1,067 مقدمات درج کئے گئے جبکہ 1,187 ون ویلرز گرفتار کئے گئے۔ صرف جولائی کے مہینے میں ہی 126 افراد کو ون ویلنگ کرتے ہوئے پکڑا گیا۔پولیس حکام کے مطابق کینال روڈ، جیل روڈ، مال روڈ، فیروزپور روڈ، رنگ روڈ اور دیگر اہم شاہراہوں پر خصوصی ناکہ بندیاں، گشت، سوشل میڈیا مانیٹرنگ اور خفیہ نگرانی کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ ون ویلنگ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے والوں کو بھی ٹریس کیا جا رہا ہے۔سینئر پولیس افسران کے مطابق ون ویلنگ صرف ٹریفک خلاف ورزی نہیں بلکہ ایک سماجی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کارروائی کے باوجود کئی نوجوان ضمانت پر رہائی کے بعد دوبارہ اسی سرگرمی میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور شہرت کی خواہش، رات گئے گروپوں کی شکل میں اچانک جمع ہونا اور والدین کی موثر نگرانی نہ ہونا اس رجحان کی بڑی وجوہات ہیں۔ماہرین ٹریفک کے مطابق صرف گرفتاریاں کافی نہیں، مستقل نگرانی، جدید کیمروں کے ذریعے شناخت، سوشل میڈیا پر منظم گروپس کے خلاف کارروائی، والدین کی جوابدہی، تعلیمی اداروں میں آگاہی مہم اور فوری عدالتی کارروائی کے بغیر اس رجحان پر قابو پانا مشکل ہے۔سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے شہریوں اور والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ نوجوانوں کو ون ویلنگ جیسے جان لیوا شوق سے دور رکھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چند لمحوں کی سنسنی ایک پورے خاندان کی زندگی اجاڑ سکتی ہے۔ انہوں نے شہریوں سے بھی کہا کہ ون ویلنگ کی اطلاع فوری طور پر ہیلپ لائن 15 یا ٹریفک پولیس کو دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔اگرچہ لاہور ٹریفک پولیس مسلسل گرفتاریاں، مقدمات اور کریک ڈاو¿ن کر رہی ہے، لیکن ابرار جیسے نوجوانوں کی ہلاکتیں یہ سوال چھوڑ جاتی ہیں کہ کیا صرف پولیس کارروائی کافی ہے یا اب والدین، تعلیمی اداروں، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور معاشرے کو بھی مشترکہ ذمہ داری ادا کرنا ہوگی تاکہ سڑکوں پر موت کا یہ کھیل ہمیشہ کیلئے ختم ہو سکے۔
ون ویلنگ سے ہلاکتوں کے بڑھتے واقعات اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان


















