کشمیر کو پاکستان سے جدا نہیں کیا جا سکتا:خواجہ آصف

اسلام آباد (بیورو رپورٹ) وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات نئی بلندیوں کی جانب گامزن ہیں اور ایرانی صدر کا دورہ پاکستان دونوں برادر ممالک کے درمیان تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی پالیسی اپنائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی کشیدگی میں کمی اور امن کے فروغ کےلئے پاکستان نے تاریخی اور مثبت کردار ادا کیا جسے عالمی برادری قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔خواجہ محمد آصف نے کہا کہ امت مسلمہ اور خلیجی ممالک پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہ رہے ہیں اور پاکستان خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان باہمی تعاون کے مختلف شعبوں میں تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔وزیر دفاع نے کہا کہ بھارت پاکستان کے موثر سفارتی کردار سے خائف ہے، تاہم پاکستان اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی جارحیت کا بھرپور اور موثر جواب دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی مغربی سرحدوں پر امن کا خواہاں ہے اور افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کے فروغ پر یقین رکھتا ہے۔ قبل ازیں قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ محمد آصف نے کہا کہ موجودہ حکومت نے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات کرکے 3500ارب کے بوجھ کوکم کیا ہے، ماضی میں اس حوالہ سے کوششیں ناکام ہوئی تھیں، یہ معاہدے 35 سال کی مدت میں ہوئے اس لئے اس کی ذمہ داری تمام سیاسی جماعتوں پر عائد ہوتی ہے، ماضی میں حالات کے مطابق کیپسٹی ادائیگیوں کے معاہدے کرنے پڑے تھے۔ دریں اثناء وزیر دفاع خواجہ آصف نے بیرونی ایجنڈے پر کاربند شرپسند عناصر کے خلاف دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر یا پاکستان کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کے بحران سے متعلق ان کے ریمارکس صاف گو اور دیانتدارانہ تھے تاہم خفیہ اور منفی ایجنڈے رکھنے والے عناصر ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اکتوبر 1947 میں ہجرت کرکے پاکستان آنے والے کشمیریوں کی قربانیاں تاریخ میں درج ہیں جبکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قبضے کے خلاف کشمیری عوام گزشتہ 78 برس سے قربانیوں، شہادتوں اور قید و بند کی طویل جدوجہد کر رہے ہیں۔