بڑھتی آبادی، گیس کے محدود ذخائر، طویل المدتی پالیسی سازی ناگزیر ، انفراسٹرکچر کی بہتری ضروری ہے: شہری

لاہور (نعیم جاوید/ عکاسی: واحد شہزاد)پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی اور گیس کے محدود ذخائر کے باعث اس بحران میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے حل کیلئے طویل المدتی پالیسی سازی ناگزیر ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ گئے گئے تو شہریوں کو آئندہ بھی اسی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ شہر کے علاقے گورومانگٹ میں واقع سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے مقامی دفتر کے روزنامہ ”مشرق“ لاہورکے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ نئے گیس کنکشن کے حصول کیلئے شہریوں کو طویل انتظار کا سامنا ہے جبکہ سینکڑوں درخواستیں تاحال زیر التواءہیں۔ شہریوں نے شکایت کی ہے کہ کئی برس گزرنے کے باوجود انہیں کنکشن فراہم نہیں کیا جا سکا جس سے گھریلو امور شدید متاثر ہو رہے ہیں۔دفتر کے ریکارڈ اور متعلقہ حکام سے گفتگو کے مطابق اس وقت گورومانگٹ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں تقریباً 1200 سے زائد گھریلو کنکشن کی درخواستیں زیر التواءہیں۔ ان میں سے بڑی تعداد 2018ءسے 2022ءکے درمیان جمع کروائی گئی درخواستوں پر مشتمل ہے، جبکہ 2023ءاور 2024ء میں جمع ہونے والی نئی درخواستیں بھی فہرست میں شامل ہو چکی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے تمام قانونی تقاضے پورے کیے، فیسیں جمع کروائیں، مگر اس کے باوجود انہیں مسلسل انتظار کی اذیت سے گزرنا پڑ رہا ہے۔متاثرہ شہریوں نے بتایا کہ متبادل ایندھن جیسے ایل پی جی سلنڈرز کے بڑھتے ہوئے نرخوں نے ان کے مالی بوجھ میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ایک شہری محمد اشفاق نے بتایا کہ انہوں نے 2019ءمیں درخواست جمع کروائی تھی لیکن ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہر بار دفتر آ کر یہی جواب ملتا ہے کہ پالیسی کے مطابق انتظار کریں۔”دوسری جانب متعلقہ افسران نے موقف اختیار کیا کہ گیس کی قلت اور حکومتی پالیسیوں کے باعث نئے کنکشنز کی فراہمی محدود کر دی گئی ہے۔ دفتر کے ایک ذمہ دار افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس وقت کمپنی کی پالیسی کے مطابق 2018ءتک کی درخواستوں کو مرحلہ وار نمٹانے پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم اس کا انحصار گیس کی دستیابی اور انفراسٹرکچر کی بہتری پر ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت کی جانب سے نئی گیس اسکیموں پر عارضی پابندی کے باعث بھی درخواستوں کا بوجھ بڑھ گیا ہے۔ “ہماری کوشش ہے کہ جیسے ہی گیس پریشر اور سپلائی کی صورتحال بہتر ہوتی ہے، پرانی درخواستوں کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے،” افسر نے کہا۔ادارے کے مطابق صنعتی اور کمرشل سیکٹر کو گیس کی فراہمی ترجیحی بنیادوں پر جاری رکھنے کی پالیسی کے باعث گھریلو صارفین کو مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایل این جی اور دیگر متبادل ذرائع سے سپلائی بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں جس سے صورتحال میں بہتری متوقع ہے۔ شہریوں نے حکومت اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ سے مطالبہ کیا ہے کہ نئے کنکشنز کیلئے واضح ٹائم فریم دیا جائے اور پرانی درخواستوں کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ درخواستوں کی پراسیسنگ کو شفاف بنایا جائے اور اس حوالے سے آن لائن ٹریکنگ کا موثر نظام متعارف کروایا جائے۔