پندرہ سال پرانے مقدمات آج بھی زیرسماعت، اینٹی کرپشن پنجاب کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

لاہور (قمر عباس نقوی) حکومت پنجاب کے اینٹی کرپشن محکمے کی کارکردگی ایک بار پھر سوالیہ نشان بن گئی ہے، جہاں بدعنوانی کے خلاف کارروائی کے دعوے تو زور و شور سے کئے جاتے ہیں مگر عملی طور پر برسوں پرانے کیس فائلوں میں دب گئے۔ 2010 اور 2011 جیسے پرانے مقدمات آج بھی زیرسماعت ہیں جو ادارے کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھارہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق اینٹی کرپشن کے ریجن A میں تقریباً 1,850 کیس جبکہ ریجن B میں 2,300 سے زائد کیس زیر التوا ہیں۔ دونوں ریجن میں مجموعی طور پر 4,000 سے زائد کیس التوا کا شکار ہیں۔ مبینہ طور پر ان میں سے بڑی تعداد 10 سے 15 سال پرانے مقدمات پر مشتمل ہے، جو تاحال کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکے ذرائع کے مطابق اینٹی کرپشن کا ادارہ نہ صرف سست روی کا شکار ہے بلکہ اس کی ترجیحات بھی سوالیہ ہیں جہاں نئے کیسوں کے اندراج کو نمایاں کیا جاتا ہے، وہیں پرانے کیسوں کو نمٹانے میں غیر سنجیدگی واضح دکھائی دیتی ہے ذرائع کے مطابق اگر ایک کیس کو نمٹانے میں ایک دہائی لگ جائے تو احتساب کا پورا عمل اپنی افادیت کھو دیتا ہے۔ ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ بار بار افسران کے تبادلے تفتیشی معیار کی کمزوری، سیاسی دباو اور بیوروکریٹک رکاوٹیں اس تاخیر کی بڑی وجوہات ہیں کئی کیسز میں شواہد کمزور ہونے یا گواہوں کے منحرف ہونے کے باعث کارروائی مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے، جس کا فائدہ براہِ راست ملزمان کو پہنچتا ہے۔ مزید برآں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر 10 سے 15 سال پرانے کیس ابھی تک زیرالتوا ہیں تو نئے کیسوں کیساتھ کیا سلوک کیا جائیگا؟ کیا یہ محض اعداد و شمار بڑھانے کی مشق ہے یا واقعی احتساب کا کوئی موثر نظام موجود ہے۔ حکومت کی جانب سے اصلاحات اور تیز رفتار انصاف کے دعوے اپنی جگہ، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں جب تک احتسابی اداروں کو مکمل خودمختاری، جدید وسائل اور واضح کارکردگی کے اہداف نہیں دئیے جاتے، اس طرح کے کیس فائلوں میں ہی دبے رہیں گے۔ اینٹی کرپشن ذرائع کے مطابق سال 2023سے 2025تک شہریوں کی جانب سے 63538شکایات موصول ہوئی تھی جس میں سابق اور نئی بھی شامل کی گئی اس میں سابق کو بھی شامل کرتے ہوئے 68529شکایات کو حل کیا گیا جبکہ 29386انکوائریز میں 16742کو مکمل کرتے ہوئے کیسوں کو نمٹایا گیا جبکہ 2978افراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی جبکہ 384عدالتی اشتہاری بھی گرفتار کئے گئے۔ اینٹی کرپشن ترجمان کے مطابق کہ ڈی جی اینٹی کرپشن کی خصوصی ہدایات پر پنجاب بھر کے ضلعی اور ریجنل دفاتر ز میں کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے تاکہ کارکردگی میں بہتری آئے جس سے مثبت نتائج حاصل ہوئے۔ لاہور کے ریجن اے اور بی میں سب سے زائد کیسوں کو نمٹایا گیا ہے۔